انسداد منشیات، دہشتگردی و اسمگلنگ:پاک بحرین مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
منامہ: پاکستان اور بحرین کے درمیان سیکورٹی تعاون کی نئی راہیں کھلنے لگی ہیں، جہاں دونوں ممالک نے انسداد دہشتگردی، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مربوط اور مؤثر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی منامہ آمد پر بحرین کے اعلیٰ حکام نے ان کا پرجوش خیرمقدم کیا، جس کا آغاز بحرین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال سے ہوا۔ بحرین کے وزیر داخلہ جنرل شیخ راشد بن عبداللہ الخلفیہ نے ذاتی طور پر محسن نقوی کو خوش آمدید کہا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری سیکورٹی وابستگی کا مظہر تھا۔
دونوں وزرائے داخلہ کی ملاقات منامہ کے تاریخی مقام ’’منامہ فورٹ‘‘ میں ہوئی، جہاں محسن نقوی کو رسمی گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے موضوعات، خاص طور پر علاقائی و عالمی سیکورٹی چیلنجز، دہشتگردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر طے پایا کہ پاکستان اور بحرین مل کر ایک مربوط مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں گے، جس کے تحت معلومات کا تبادلہ، آپریشنل تعاون اور تکنیکی تربیت کے شعبوں میں بھی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
دونوں ممالک اس بات پر متفق نظر آئے کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سیکورٹی خطرات نے نئے انداز اختیار کر لیے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ملاقات کے دوران یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ پاکستان اور بحرین کی وزارت داخلہ کے درمیان قائم مشترکہ سیکورٹی کمیٹی کو مزید فعال اور بااختیار بنایا جائے تاکہ تعاون کی رفتار میں تسلسل برقرار رہے۔
بحرینی وزیر داخلہ نے پاکستان کے ساتھ سیکورٹی شراکت داری کو خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے سیکورٹی روابط کو ایک نئی مضبوطی عطا کرے گا۔
محسن نقوی نے بھی اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور خاص طور پر منشیات اور انسانی اسمگلنگ جیسے حساس مسائل پر تعاون بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنی بحرینی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ یہ مشاورت آگے بڑھ سکے اور زمینی حقائق کی روشنی میں مزید پیش رفت ہو۔
دورے کے اختتام پر محسن نقوی نے بحرینی وزارت داخلہ کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات تحریر کیے، جو اس دوستی اور اعتماد کی علامت تھے جسے دونوں ممالک پروان چڑھا رہے ہیں۔
تقریب میں بحرین کے نائب وزیر داخلہ، چیف آف پبلک سیکورٹی، اعلیٰ فوجی حکام، اور پاکستان کے سفیر ثاقب رؤف سمیت سفارتی و عسکری شخصیات بھی شریک تھیں، جس سے اس دورے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک وزیر داخلہ محسن نقوی بحرین کے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں