data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ ( آئی این پی ) بلو چستان کانسٹیبلری (بی سی) ہیڈ کوارٹر بدر لائن میں سیکورٹی کے سلسلے میں اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت ایڈیشنل IGP کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف نے کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری لیفٹینٹ کمانڈر (ریٹائرڈ) عطا اللہ شاہ SSP ، PSP بیڈ کوارٹرز ، زونل کمانڈر1،11،11،71 اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسد اللہ اور بلوچستان کانسٹیبلری کے آؤٹ زونز کے زونل کمانڈرز نے بذریعہ ویڈیولنک شرکت کی۔ایڈیشنل IGP کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوان و افسران پورے بلوچستان امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے دن رات ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہے۔ جس سے صوبے میں امن وامان برقرار ہے۔ایڈیشنل IGP کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف نے تمام زونل کمانڈرز کو ہدایت جاری کی کہ تمام جوانوں کے تبادلہ جات کو شفافیت طریقے سے کریں جس سے ایماندار جوان پوسٹوں پر تعینات ہو سکیں۔ جو کسی کی حق تلفی نہ کریں۔ غیر ذمہ دار اور کرپٹ ملازمان کو زون میں سخت ڈیوٹی پر لگایا جائے۔ تاکہ ان جوانوں کی غیر ذمہ دارانہ ڈیوٹی اور کرپشن کی سزا سے دوسرے جو ان سبق حاصل کر سکیں۔ایڈیشنل IGP کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف نے سیٹلائٹ مانیٹرنگ سسٹم فعال کرنے پر زور دیا ہے تا کہ جوانوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے۔ جس سے جوانوں کی حاضری اورڈیوٹیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ایڈیشنلIGPکمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف نے تمام زونل کمانڈرز کو ہدایت کی کہ لائنز کی سیکورٹی کو مضبوط کیا جائے۔ اور آپ کے ہیڈ کوارٹرز میں جو نفری ریز رو ہوتی ہے اس کو بطور اسپیشل سیکورٹی تعینات کیا کریں اور جب کسی انتظامیہ کی طرف سے نفری کی ڈیمانڈ آتی ہے تو اسپیشل سیکورٹی کو کلوز کر کے فراہم کیا جائے بعد از ڈیوٹی دوبارہ اس اسپیشل ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے۔ایڈیشنل IGP کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف اجلاس میں موجود تمام افسران کو ہدایت کہ محرم الحرام میں بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں نے جس دل جمی سے ڈیوٹیاں کی ہیں وہ شاباش کے مستحق ہیں۔ اس پر میری طرف سے آپ تمام افسران اور جوانوں کو شاباش دی جاتی ہے اور آئندہ کیلئے اسی طرح بلوچستان کانسٹیبلری کا نام روشن کرنے کی امید کی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش