Juraat:
2026-06-03@07:50:37 GMT

برکس اور بھارت

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

برکس اور بھارت

حمیداللہ بھٹی

برکس کو عام طوپر نیٹو اور یورپی یونین جیسی طاقتور تنظیموں کامتبادل تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تاثرشایداب زیادہ دیر برقرارنہ رہے۔ ایساتاثر محض جزوی طورپر ہی درست کہا جا سکتا ہے کیونکہ رُکن ممالک میں تجارتی اور معاشی تعاون بڑھانے کے باوجود ابھی تک دفاعی تعاون میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ اِس لیے اِسے کیونکر نیٹو کا متبادل قراردیا جاتا ہے؟ مگر جیسے جیسے رُکن ممالک میں تجارتی و معاشی روابط فروغ پذیر ہیں اِس تنظیم کی افادیت و اہمیت تسلیم اور اِس کے فیصلوں کو بھی سنجیدہ لیا جانے لگا ہے لیکن اگراپنا وقارو نکتہ نظر منوانا اور دنیاکو ہم خیال بنانا ہے تواِس تنظیم کو برملا اور دوٹوک رویہ اختیارکرناہوگا۔ ابہام پر مبنی پالیسی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
برازیل کے شہرریوڈی جنیرومیں برکس کے حالیہ دوروزہ 17 ویںسربراہی اجلاس سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں گیابلکہ کئی کمزوریوں کو واضح کیاہے یہ درست ہے کہ اجلاس کے دوران رُکن ممالک نے امریکی تجارتی پالیسیوں کو بے ترتیب ،نقصان دہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیاہے کہ جوبھی ملک امریکہ مخالف پالیسیوں کا ساتھ دے گا اُس پر دس فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا اور اِس حوالے سے کسی کواستثنیٰ نہیں ہو گا۔مسئلہ تو یہ ہے کہ تنظیم نے خیالات کااظہار تو کیالیکن کوئی طریقہ کاریا لائحہ عمل نہیں بنایاحالانکہ برکس ممالک کی جانب سے تجارتی پالیسیوں پر تنقید کے جواب میں ٹرمپ کے خیالات غیر متوقع نہیں کیونکہ آجکل وہ جس قسم کی جارحانہ تجارتی حکمتِ عملی پر کاربندہیں وہ بھارت کے لیے بھی خطرے کے الارم سے کم نہیں مگر جواب میں اُس کی طرف سے معنی خیزخاموشی ہے اور ظاہری ودرپردہ امریکہ سے گرمجوشی پر مبنی شراکت داری بحال رکھنے کے لیے سفارتی حوالے سے سرگرم ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے حوالے سے بھارت کا زیادہ دیر مُبہم رویہ تب تک فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا جب تک دونوں ممالک کواپنی حالیہ پالیسیوں پرجلد نظرثانی نہ کریں ۔بظاہر امریکہ سے ایسی کسی سرگرمی کی توقع کم ہے۔ لہٰذا باہمی تعلقات غیر متوازن ہو نے کے امکانات حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔
برکس کوئی معمولی تنظیم نہیں کیونکہ یہ دنیا کی کُل آبادی کے نصف اور عالمی معیشت کے چالیس فیصد کی نمائندہ ہے مگر اب بھی یہ تنظیم دنیا میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جووسائل ،آبادی ،معیشت اور دفاعی حوالے سے اِس کا حق ہے۔ برازیل میں انعقاد پذیر اجلاس سے دنیا کو بڑی حد تک نااتفاقی کا پیغام گیا ہے۔ سعودی عرب ،انڈونیشیااور برازیل جیسے اہم ممالک جن کاشمار امریکی اتحادیوں میں ہوتا ہے نے اجلاس میں صدرٹرمپ کا نام لینے سے دانستہ طورپر گریز کیا۔ یہ خوف ہے یاتجارتی مفادات بچانے کی ایک اور کوشش ،وجوہات کے حوالے سے ماہرین کی رائے متضادہے۔ البتہ اِس پرسب متفق ہیں کہ اندرونی عدمِ اتفاق تنظیم کے لیے نیک شگون نہیں ،اِس لیے جلد بدیر رُکن ممالک کواپنی پالیسیوں کے ابہام وتضادات دورکرنا ہوں گے۔
برازیلی صدر لوئس ایناسیو لولاداسلوا نے کہا ہے کہ اُبھرتے ہوئے برکس ممالک کسی بادشاہ کے تحت زندگی نہیں گزارنا چاہتے۔ اتحاد میں شامل گیارہ ممالک کے دوروزہ اجلاس کے اختتام پر کسی کانام لیے بغیر انھوں نے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم خود مختار قومیں ہیں لہٰذا کسی شہنشاہ کو نہیں مانتے ۔چین جسے آجکل امریکہ مخالف سرگرمیوں کا محور خیا ل کیا جاتا ہے نے بھی حالیہ اجلاس میں کہہ دیا ہے کہ برکس کسی ملک کے خلاف بلاک نہیں بلکہ تعاون کا ایک پلیٹ فارم ہے نیز تجارتی جنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان مائونِنگ نے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے کہہ دیاکہ تجارتی اور محصولات جنگوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ روسی ترجمان دمتری پسکوف نے بھی اِس بار خاصا نرم رویہ اپناتے ہوئے باورکرانے کی کوشش کی کہ برکس تنظیم کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کہ تنظیم میں شامل تمام گیارہ ممالک کا تو آپس میں بھی اتفاق نہیں توتنظیم بنانے کامقصدکیاہے؟کیاحالیہ اجلاس صرف کھانے کی تقریب تھی یا تصاویر بنوانے کی محفل ؟ اگر ایسا نہیں تو رُکن ممالک اپنے مفادات کی نگہبانی کا فریضہ ادا کرنے میں کیوں مخمصے کا شکار ہیں ؟ اِس میں کوئی ابہام نہیں کہ تنظیم کے حالیہ اجلاس نے نہ صرف خومختاری کا تاثر زائل کیا ہے بلکہ کسی نادیدہ خوف کاشکار رُکن ممالک ایسی اَن دیکھی جکڑبندیوں کاشکار نظر آئے جن کے تناظر میں آزادانہ فیصلے کی توقع عبث ہے۔
دنیا کو درپیش حالات کے تناظر میں برکس کا رویہ مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی طرح کچھ زیادہ ہی نرمی پر مبنی ہے۔ ایسے رویے سے مطالبات منوائے نہیں جا سکتے۔ برکس نے رواں ماہ کے اپنے سربراہی اجلاس میں واضح کیا ہے کہ غزہ کی پٹی مقبوضہ فلسطینی علاقے کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ لہٰذامغربی کنارے کے ساتھ اُسے فلسطینی اتھارٹی کے تحت یکجا کیا جائے۔ اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری ،مستقل،اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے نیک نیتی سے مذاکرات کیے جائیں۔ اسرائیلی افواج کو غزہ اور دیگر تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے واپس بلایا جائے۔ برکس نے اسرائیل اور امریکہ کا نام لیے بغیرایران حملوں کی مذمت کی اور انھیں عالمی قوانین کے منافی قرار دیا۔ ایسے نرم اور ڈھیلے ڈھالے اعلامیے سے خیال کرلینا کہ طاقتورممالک جارحیت کرنے سے بازآجائیں گے محض ایک خام خیالی ہی کہی جا سکتی ہے۔ کیونکہ بات کرتے ہوئے یہ احتیاط کرنا کہ کسی کی جبیں شکن آلود نہ ہوکمزور ہونے کابین ثبوت ہے۔
برکس اجلاس سے بھارت بہترسفارتکاری سے اِتنا فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا کہ تنظیم نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کردی ۔بھارت کی تویہ بھی خواہش تھی کہ پاکستان کا نام شامل کرتے ہوئے مذمت واضح اور واشگاف ہو لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکامگرپھر بھی یہ کیا کم ہے کہ مذمت کرنے کی بھارتی خواہش تو پوری ہوگئی لیکن اِس تنظیم کے بہی خواہوں میں ایسا رویہ تشویش کا باعث ہے۔ اِس سے رُکن ممالک میں عدم اتفاقی کاتاثرگہراہورہا ہے جس کے نتیجے میں تعاون بڑھانے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے میں ہونے والی سفارتی سُبکی کا بھارت نے برکس اجلاس سے ازالہ تو کرا لیا لیکن ایسی کھینچاتانی تنظیمی کمزوریوں کاتو باعث بن سکتی ہے مگروقاربڑھانے میں فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی۔ اگر دنیا سے موقف منوانا ہے تو نہ صرف تنظیم کے اندرافہام و تفہیم کی فضا کو بہتر بنانا ہوگا بلکہ رُکن ممالک میں مشترکہ تعمیر اور اشتراک پر مبنی تصورکی عملی اہمیت بھی واضح کرنا ہوگی۔ اِس حوالے سے صنعت اور ٹیلی مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں رُکن ممالک کے باصلاحیت افراد کی تربیت قائم کرنے کی چینی پیشکش بروقت اور سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر عالمی حکمرانی کو منصفانہ،معقول اورمنظم سمت میں فروغ دینا ہے تو تنظیم کو نادیدہ بیرونی خوف سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے اندرونی کشمکش پربھی جلد قابوپانا ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ر کن ممالک میں کہ تنظیم اجلاس سے تنظیم کے حوالے سے نہیں ہو ہو سکتی سکتی ہے لیکن ا کے لیے

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا