کیلیفورنیا میں خاتون کا گھر اَن چاہے ایمیزون پارسلز سے بھر گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے کی ایک خاتون کے گھر میں گزشتہ ایک سال سے روزانہ کی بنیاد پر ایسے ایمیزون پارسلز آ رہے ہیں جن کا اُس نے آرڈر ہی نہیں دیا۔
خاتون، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کا کہنا ہے کہ ہر ڈبے میں ایٹکن (Etkin) برانڈ کی نقلی چمڑے کی گاڑیوں کے سیٹ کورز ہوتے ہیں، جو ایک چینی کمپنی Liusandedian کی جانب سے ایمیزون پر بیچے جاتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی نے اپنی واپسی (ریٹرن) کا پتا اس خاتون کے گھر کا درج کر دیا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر سے خریدار اپنی ناقص مصنوعات واپس اسی کے پتے پر بھیج رہے ہیں۔
آن لائن صارفین کی شکایات سے بھری ہوئی ریویوز بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ سیٹ کور کا فٹ نہ آنا، ریٹرن کی بھاری قیمت، اور ریفنڈ نہ ملنے جیسے مسائل عام ہیں۔
خاتون نے مقامی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اکثر اوقات واپسی کی لاگت اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے جتنے میں وہ چیز خریدی گئی تھی! اور بدقسمتی سے لوگوں کو اُن کے پیسے بھی واپس نہیں ملتے۔
ایمیزون کی جانب سے بار بار مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانیوں کے باوجود، پارسلز کا تانتا بندھنے کا نام نہیں لے رہا۔
ایمیزون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم نے متاثرہ خاتون سے معذرت کر لی ہے اور ان کے ساتھ مل کر پیکجز واپس لینے اور مسئلے کے مستقل حل کے اقدامات کر رہے ہیں۔
ایمیزون کے نمائندے حال ہی میں متاثرہ خاتون کے گھر پہنچے اور درجنوں پارسلز واپس لے گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ووڈ سائیڈ، کیلیفورنیا کے رہائشی جان ڈی فیور کو بھی گزشتہ سال بالکل ایسا ہی تجربہ ہوا، ان کے گھر بھی ناپسندیدہ ایمیزون پارسلز کے انبار لگ گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے گھر
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔