بھارتی ٹینس اسٹار رادھیکا یادیو والد کی فائرنگ سے قتل
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
ممبئی(نیوز ڈیسک) بھارت کی معروف ٹینس کھلاڑی 25 سالہ رادھیکا یادیو کوان کے والد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رادھیکا نے ملکی و بین الاقوامی سطح پربھارت کی نمائندگی کی تھی، واقعے کے وقت گھرمیں صرف رادھیکا اوران کے والد موجود تھے۔
پولیس کے مطابق رادھیکا کو متعدد گولیاں مارنے کے بعد تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگئیں۔
اطلاع اسپتال انتظامیہ نے پولیس کو دی جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے والد کوگرفتارکرلیا گیا اوران کے قبضے سے لائسنس یافتہ اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
پولیس کے مطابق قتل کی وجہ رادھیکا کی سوشل میڈیا پربڑھتی مصروفیت اورانسٹاگرام ریلزپروقت گزارنا بتایا جا رہا ہے۔
تاجر برادری کا 19 جولائی سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک