بلوچستان میں 9 افراد کی ٹارگٹ کلنگ قابل مذمت ہے،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی ایسے متعدد واقعات ہو چکے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اصل ذمہ داران کو گرفتار کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ بلوچستان میں نیوی کا حاضر سروس آفیسر کلبھوشن اپنے پورے نیٹ ورک کے ساتھ بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بلوچستان میں محنت اور مزدوری کرنے والے افراد کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے بد قسمتی سے ایک تسلسل کے ساتھ بلوچستان میں پنجاب کے لوگوں کو قتل کیا جار ہا ہے۔پوری قوم حکمرانوں سے سوال پوچھتی ہے کہ حکومت نے ان بے گناہ اور نہتے لوگوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کئے ہیں۔؟انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں بلوچستان پورے ملک سے تعلق رکھنے والوں کے لیے علاقہ غیر بنتا جا رہا ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بلوچستان میں بھارت اور اسرائیل پاکستان کی سلامتی پر وار کر رہے ہیں۔ الحمد اللہ ہماری بہادر افواج نے ملکی سرحدوں کی طرح جیسے حفاظت کی ویسے ہی ان مٹھی بھر دہشت گردوں کا قلع قمع کرے گی۔ قوم ساتھ کھڑی ہے۔محمد قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ جماعت اسلامی پنجاب بے گناہ مزدوروں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی پشت پر کھڑی تمام قوتوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
پشاور:خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے اب تک ہونے والی تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے باعث 28 افراد جاں بحق اور 29 افراد زخمی ہوگئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 10 مرد، 15 بچے اور 3 خواتین جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 37 گھروں کو جزوی اور 10 گھر مکمل منہدم ہوئے۔
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال اپر و لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان اپر، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوام سےاپیل کی جاتی ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔