قتل کیے جانے والے 9 افراد کی مییتیں بلوچستان حکومت نے ڈیرہ غازی خان انتظامیہ کے حوالے کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
فائل فوٹو
لورالائی کے قریب قتل کیے جانے والے 9 افراد کی مییتیں بلوچستان حکومت نے ڈی جی خان انتظامیہ کے حوالے کردی۔
انتظامیہ نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے 9 مسافروں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔
انتظامیہ کے مطابق جابر اور عثمان دونوں سگے بھائیوں کا تعلق لودھراں کی تحصیل دنیا پور سے تھا۔
محمد عرفان کا تعلق ڈی جی خان، صابر کا تعلق گوجرانولہ سے محمد آصف کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا۔
اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کا کہنا ہے کہ جاں بحق مسافروں کی میتوں کو رکھنی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
اس کے علاوہ غلام سعید کا تعلق خانیوال سے، محمد جنید کا تعلق لاہور سے تھا، محمد بلال اٹک جبکہ بلاول کا تعلق گجرات سے تھا۔
کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری کے مطابق تمام مییتیں بلوچستان کے ضلع بارکھان انتظامیہ نے پنجاب انتظامیہ کے حوالے کی۔
کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد کے مطابق جاں بحق 9 افراد کی لاشیں بلوچستان پنجاب سرحد پر وصول کرلی گئی ہیں جہاں سرحدی علاقے بواٹہ پر میتیں پولیٹیکل اسسٹنٹ اسد چانڈیہ نے وصول کیں جس کے بعد میتوں کو ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان سے پنجاب جانیوالے 9 مسافروں کو دہشتگردوں نے بس سے اتار کر گزشتہ رات قتل کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انتظامیہ کے کا تعلق سے تھا
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔