سلیمان یا قاسم خان آنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے، علی محمد خان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
لاہور:
رہنما تحریک انصاف علی محمد خان کا کہنا ہے کہ اگر سلیمان یا قاسم خان آتے بھی ہیں تو خالصتاً اپنے والد یعنی ہمارے لیڈر سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے اپنا کوئی کردار ادا کرنے آئیں گے، مجھے نہیں لگتا کہ ان کا کوئی پولیٹیکل موٹیو ہے، دوسرا وہ آ رہے ہیں میں یہ کنفرم بھی نہیں کر سکتا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیوز ہے جو تین چار دن سے چل رہی ہے لیکن اگر وہ آنا چاہیں تو ان کا حق ہے، ان کا آبائی ملک ہے، اپنے والد صاحب کے ساتھ یہاں ان کا بچپن گزرا ہے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) عقیل چوہدری نے کہا کہ کل بھی میں ایک شو میں تھا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں نے واضع طور پر حکومت کا موقف یالیگل پوزیشن ایکسپلین کی، میں اس تمام تر معاملے کے اوپر دوبارہ اس پر روشنی ڈالتا ہوں کیونکہ میں اس پرزمپشن پر پروسیڈ کر رہا ہوں کہ وہ برطانوی شہری ہیں، ان کے پاس کوئی اور پاسپورٹ نہیں ہے وہ پاکستانی شہری نہیں ہیں، ان کے پاس نائیکوپ نہیں ہے،
پچھلی دفعہ بھی غالباً یہی اطلاعات موصول ہوئیں کہ جب وہ پچھلی دفعہ بھی آئے تو پاکستان کا ویزا لیکر آئے تو دنیا کے کوئی بھی ممالک ہیں آپ ہیں، میں ہوں، بحیثیت پاکستانی شہری ہم امریکاجا کر اور برطانیہ جا کہ وہاں پر پروٹیسٹ نہیں کر سکتے ان کی حکومتوں کے خلاف۔
بیورو چیف ایکسپریس محمد الیاس نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے معطل ارکان کو آئین کے آرٹیکل 10کے تحت موقعہ دیا جا رہا ہے، اسپیکر نے کہا ہے کہ ان کا بھی موقف سننا چاہیے، پہلے تو یہ بات نہیں ہو رہی تھی، پہلے تو یہ تھا کہ ان کے خلاف سیدھا ریفرنس دائر کر کے ان کو ڈی سیٹ کرنے کے کیلیے کا م کیا جا رہا تھا، حکومت کی طرف سے لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے تو اس وجہ سے اسپیکر نے ان کو بلایا ہے، بطور کسٹوڈین آف دی ہاؤس وہ ان کو بلا کر سنیں گے کہ آپ کے خلاف یہ ریفرنس آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔