ویب ڈیسک:بلوچستان کے ضلع لورالائی کے علاقے سرڈھاکہ میں بسوں سے اتار کر شہید کیے گئے مسافروں میں باپ کے جنازے میں شرکت کے لیے پنجاب جانے والے 2 سگے بھائی بھی شامل ہیں، شہدا کی میتیں ڈیرہ غازی خان منتقل کردی گئیں۔

   بلوچستان میں بسوں سے اتار کر بے دردی سے شہید کیے گئے 9 مسافروں کا تعلق لاہور، گجرات، خانیوال، گوجرانولہ، لودھراں اور مظفر گڑھ سے ہے، شہدا میں ضلع لودھراں کی تحصیل دنیاپور کے رہائشی 2 سگے بھائی جابر اور عثمان اپنے والد کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

حفیظ سنٹر لاہور میں فائر ریسکیو آپریشن ؛ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز کا فائر فائٹرز کو خراج تحسین

 شہید صابر حسین ولد محمد ریاض کا تعلق کامکی گوجرانولہ، شہید محمد آصف ولد سلطان کا تعلق چوک قریشی ڈیرہ غازی خان، شہید غلام سعید ولد غلام سرور کا تعلق خانیوال، شہید محمد جنید کا تعلق لاہور اور شہید محمد بلال ولد عبد الوحید کا تعلق اٹک جبکہ شہید بلاول کا تعلق گجرات سے تھا۔

 اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ مجموعی طور پر 8 مسافروں کی شناخت ہوگئی تاہم ایک مسافر کے دستاویزات دہشت گرد اپنے ساتھ لے گئے اس لئے شناخت نہ ہوسکی۔

شکر گڑھ میں درمیانے درجے کا سیلاب، زمینی رابطہ منقطع

 ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور بارڈر ملٹری پولیس کے سربراہ کمانڈنٹ محمد اسد خان چانڈیہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر میتیں وصول کرتے ہوئے انہیں متعلقہ علاقوں کے لیے روانہ کردیا۔

 انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان بارڈر ملٹری پولیس لاشوں کو آبائی علاقے تک پہنچائے گی۔

 واضح رہے کہ جمعرات کی رات بلوچستان ضلع کے ژوب اور لورالائی کی سرحد پر واقع سورڈکئی کے علاقے میں فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی 2 کوچز میں سوار کم از کم 9 مسافروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

جیل روڈ سے ملحقہ سڑک پر شگاف پڑ گیا ،اتنظامیہ غائب

 اس حملے کی ذمہ داری فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی، تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے موسیٰ خیل-مکھتر اور خجوری کے درمیان شاہراہ کو بند کرنے کے بعد ان 9 مسافروں کو قتل کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کا تعلق

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس