Jasarat News:
2026-07-24@06:55:15 GMT

سندھ کی سیاست میں مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

سندھ کی سیاست میں مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

(آخری حصہ)

سندھ کی ستر تا اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کو اچھی طرح سے اس بات کا پتا ہے کہ سندھ میں کون سے خاندان کب سے قبضہ جما کر سیاست کر رہے ہیں، لیکن بعد میں ہوش سنبھالنے والوں کو اس حوالے سے بہت کم معلومات ہیں۔ جبکہ 2000ء کی نسل کو تو کسی بات کا کچھ علم ہی نہیں ہے۔ ان سمیت سندھ کے تمام لوگوں کی معلومات کے لیے یہاں 71ء سے پہلے والی سندھ اسمبلی کے کچھ ارکان کے نام بطور نمونہ اور مثال پیش کیے جا رہے ہیں۔ تاکہ انہیں اس امر کی بابت آ گہی حاصل ہو سکے کہ سندھ کے ساتھ یہ کتنی بڑی زیادتی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ ستر فی صد انہی ارکان کی نسل 2025ء کی اسمبلی میں بھی موجود ہے۔ یہ دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ گویا سندھ کے آ گے بڑھنے کا سفر ایک طرح سے تھم سا گیا ہے۔ ہم آ ج بھی اسی مقام پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں سے ہم چلے تھے۔ ایسے میں پھر بھلا فقیر مشتاق منگریو، ڈاکٹر اکرم شیخ اور غلام سرور سہاگ جیسے جیالے کارکنان اور عام افراد آ خر کس طرح سے ایوانوں میں پہنچ سکتے ہیں؟

1954ء میں ملک میں ون یونٹ لاگو کیا گیا تھا۔ جس کے لیے سندھ اسمبلی سے 11 دسمبر 1954ء کو ون یونٹ کے حق میں ایک قرارداد بھی پاس کروائی گئی تھی۔ اس اسمبلی میں دادو سے پیر الٰہی بخش بھی موجود تھے۔ جن کے پوتے پیر مظہر الحق 1988ء سے ایم پی اے بننا شروع ہوئے۔ اس وقت بھی پیر مظہر الحق کے بیٹے پیر مجیب رکن سندھ اسمبلی ہیں۔ جام بشیر احمد ڈہر بھی اس اسمبلی میں موجود تھے۔ اب جام مہتاب ڈہر اسمبلی میں براجمان ہیں۔ علی اصغر شاہ شیرازی کا نام سامنے آتے ہی یہ پتا چلتا ہے کہ اس وقت قومی اور سندھ اسمبلی میں موجود ٹھٹھہ کے شیرازی بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سردار علی گوہر مہر بھی 54ء کی اسمبلی میں موجود تھے۔ اس وقت بھی سردار علی گوہر مہر رکن سندھ اسمبلی ہیں، لیکن یہ 71 سال پہلے والے سردار علی گوہر مہر نہیں ہیں۔ کیوں کہ وہ ان کے چچا تھے۔ جب کہ ان کے کزن اور برادری کے چیف سردار کہلانے والے محمد بخش مہر اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ جن کے والد سردار غلام محمد مہر تھے۔ ان کے سوا ایک اور ایم پی اے کی سیٹ راجا خان مہر اور ضلع گھوٹکی کی چیئر مین شپ محمد بخش مہر کے بھائی کے پاس ہے۔ ماضی کی ذکر کردہ اسمبلی میں امیر بخش مہر بھی تھے۔ جو یقینی طور پر ضلع شکار پور سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ جہاں پہلے تو تین دہائیوں تک سردار غوث بخش مہر نے سیاست کی اور اب انہوں نے اپنے بیٹوں شہر یار مہر اور عارف مہر کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب کروانے کے بعد خود اپنی بقیہ زندگی آرام کرنے کی ٹھان لی ہے۔ آغا بدر الدین درانی کا نام سنتے ہی شکارپور کی سیاست پر حاوی پٹھان خاندان کا نام سامنے آ تا ہے۔ جس کی نمائندگی اس وقت سندھ اسمبلی میں آغا سراج درانی کر رہے ہیں۔ اسی طرح سے مخدوم طالب المولیٰ، سردار سلطان احمد چانڈیو، سیف اللہ خان مگسی بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ مخدوم خاندان سے اس وقت مخدوم جمیل الزمان اور دیگر ایوانوں میں موجود ہیں۔ سلطان چانڈیو کے ورثاء میں سے سردار چانڈیو، جبکہ سردار سیف اللہ مگسی کے خاندان سے نادر مگسی اور عامر مگسی منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح سے سردار نور محمد خان بجارانی اور محمد بخش خان سرکی کے نام سنتے ہی کشمور کندھ کوٹ کے موجودہ اراکین ِ اسمبلی ذہن میں آ جاتے ہیں۔ مزاری خاندان بعد یہاں پر سیاست میں حاوی ہوا۔ اب یہ خاندان بھی اس وقت اپنی خاندانی سیاست کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہے۔

یہ وہ تلخ حقائق ہیں، جن پر اگر تفصیل کے ساتھ لکھا جائے تو ایک ضخیم کتاب بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ سندھ کی سیاست پر گزشتہ ایک طویل عرصے سے مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوش حال سندھ کے افراد روز بروز غریب سے غریب تر اور مخصوص خاندان امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ اس لیے اہل سندھ کو شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خاندانوں کی اجارہ داری سے اپنی جان چھڑوانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سیاست کرنے والی تمام تنظیموں اور وکلا، اساتذہ، شاگردوں، کسانوں سمیت سول سوسائٹی سمیت دیگر تمام شعبوں سے وابستہ افراد کو بھی اس حوالے سے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا بصورت دیگر مستقبل میں بھی یہی خاندان اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر تے، اقتدار کے مزے لوٹتے اور سندھ پر مسلط رہیں گے۔ (بشکریہ: روزنامہ ’’پنھنجی اخبار‘‘ کراچی 24 جون 2025ء)

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی اسمبلی میں سندھ کے رہے ہیں بھی اس

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن