Jasarat News:
2026-06-03@07:52:10 GMT

سندھ کی سیاست میں مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

سندھ کی سیاست میں مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

(آخری حصہ)

سندھ کی ستر تا اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کو اچھی طرح سے اس بات کا پتا ہے کہ سندھ میں کون سے خاندان کب سے قبضہ جما کر سیاست کر رہے ہیں، لیکن بعد میں ہوش سنبھالنے والوں کو اس حوالے سے بہت کم معلومات ہیں۔ جبکہ 2000ء کی نسل کو تو کسی بات کا کچھ علم ہی نہیں ہے۔ ان سمیت سندھ کے تمام لوگوں کی معلومات کے لیے یہاں 71ء سے پہلے والی سندھ اسمبلی کے کچھ ارکان کے نام بطور نمونہ اور مثال پیش کیے جا رہے ہیں۔ تاکہ انہیں اس امر کی بابت آ گہی حاصل ہو سکے کہ سندھ کے ساتھ یہ کتنی بڑی زیادتی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ ستر فی صد انہی ارکان کی نسل 2025ء کی اسمبلی میں بھی موجود ہے۔ یہ دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ گویا سندھ کے آ گے بڑھنے کا سفر ایک طرح سے تھم سا گیا ہے۔ ہم آ ج بھی اسی مقام پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں سے ہم چلے تھے۔ ایسے میں پھر بھلا فقیر مشتاق منگریو، ڈاکٹر اکرم شیخ اور غلام سرور سہاگ جیسے جیالے کارکنان اور عام افراد آ خر کس طرح سے ایوانوں میں پہنچ سکتے ہیں؟

1954ء میں ملک میں ون یونٹ لاگو کیا گیا تھا۔ جس کے لیے سندھ اسمبلی سے 11 دسمبر 1954ء کو ون یونٹ کے حق میں ایک قرارداد بھی پاس کروائی گئی تھی۔ اس اسمبلی میں دادو سے پیر الٰہی بخش بھی موجود تھے۔ جن کے پوتے پیر مظہر الحق 1988ء سے ایم پی اے بننا شروع ہوئے۔ اس وقت بھی پیر مظہر الحق کے بیٹے پیر مجیب رکن سندھ اسمبلی ہیں۔ جام بشیر احمد ڈہر بھی اس اسمبلی میں موجود تھے۔ اب جام مہتاب ڈہر اسمبلی میں براجمان ہیں۔ علی اصغر شاہ شیرازی کا نام سامنے آتے ہی یہ پتا چلتا ہے کہ اس وقت قومی اور سندھ اسمبلی میں موجود ٹھٹھہ کے شیرازی بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سردار علی گوہر مہر بھی 54ء کی اسمبلی میں موجود تھے۔ اس وقت بھی سردار علی گوہر مہر رکن سندھ اسمبلی ہیں، لیکن یہ 71 سال پہلے والے سردار علی گوہر مہر نہیں ہیں۔ کیوں کہ وہ ان کے چچا تھے۔ جب کہ ان کے کزن اور برادری کے چیف سردار کہلانے والے محمد بخش مہر اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ جن کے والد سردار غلام محمد مہر تھے۔ ان کے سوا ایک اور ایم پی اے کی سیٹ راجا خان مہر اور ضلع گھوٹکی کی چیئر مین شپ محمد بخش مہر کے بھائی کے پاس ہے۔ ماضی کی ذکر کردہ اسمبلی میں امیر بخش مہر بھی تھے۔ جو یقینی طور پر ضلع شکار پور سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ جہاں پہلے تو تین دہائیوں تک سردار غوث بخش مہر نے سیاست کی اور اب انہوں نے اپنے بیٹوں شہر یار مہر اور عارف مہر کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب کروانے کے بعد خود اپنی بقیہ زندگی آرام کرنے کی ٹھان لی ہے۔ آغا بدر الدین درانی کا نام سنتے ہی شکارپور کی سیاست پر حاوی پٹھان خاندان کا نام سامنے آ تا ہے۔ جس کی نمائندگی اس وقت سندھ اسمبلی میں آغا سراج درانی کر رہے ہیں۔ اسی طرح سے مخدوم طالب المولیٰ، سردار سلطان احمد چانڈیو، سیف اللہ خان مگسی بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ مخدوم خاندان سے اس وقت مخدوم جمیل الزمان اور دیگر ایوانوں میں موجود ہیں۔ سلطان چانڈیو کے ورثاء میں سے سردار چانڈیو، جبکہ سردار سیف اللہ مگسی کے خاندان سے نادر مگسی اور عامر مگسی منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح سے سردار نور محمد خان بجارانی اور محمد بخش خان سرکی کے نام سنتے ہی کشمور کندھ کوٹ کے موجودہ اراکین ِ اسمبلی ذہن میں آ جاتے ہیں۔ مزاری خاندان بعد یہاں پر سیاست میں حاوی ہوا۔ اب یہ خاندان بھی اس وقت اپنی خاندانی سیاست کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہے۔

یہ وہ تلخ حقائق ہیں، جن پر اگر تفصیل کے ساتھ لکھا جائے تو ایک ضخیم کتاب بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ سندھ کی سیاست پر گزشتہ ایک طویل عرصے سے مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوش حال سندھ کے افراد روز بروز غریب سے غریب تر اور مخصوص خاندان امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ اس لیے اہل سندھ کو شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خاندانوں کی اجارہ داری سے اپنی جان چھڑوانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سیاست کرنے والی تمام تنظیموں اور وکلا، اساتذہ، شاگردوں، کسانوں سمیت سول سوسائٹی سمیت دیگر تمام شعبوں سے وابستہ افراد کو بھی اس حوالے سے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا بصورت دیگر مستقبل میں بھی یہی خاندان اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر تے، اقتدار کے مزے لوٹتے اور سندھ پر مسلط رہیں گے۔ (بشکریہ: روزنامہ ’’پنھنجی اخبار‘‘ کراچی 24 جون 2025ء)

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی اسمبلی میں سندھ کے رہے ہیں بھی اس

پڑھیں:

سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان

(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔

مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔

 بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا