سندھ کی سیاست میں مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(آخری حصہ)
سندھ کی ستر تا اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کو اچھی طرح سے اس بات کا پتا ہے کہ سندھ میں کون سے خاندان کب سے قبضہ جما کر سیاست کر رہے ہیں، لیکن بعد میں ہوش سنبھالنے والوں کو اس حوالے سے بہت کم معلومات ہیں۔ جبکہ 2000ء کی نسل کو تو کسی بات کا کچھ علم ہی نہیں ہے۔ ان سمیت سندھ کے تمام لوگوں کی معلومات کے لیے یہاں 71ء سے پہلے والی سندھ اسمبلی کے کچھ ارکان کے نام بطور نمونہ اور مثال پیش کیے جا رہے ہیں۔ تاکہ انہیں اس امر کی بابت آ گہی حاصل ہو سکے کہ سندھ کے ساتھ یہ کتنی بڑی زیادتی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ ستر فی صد انہی ارکان کی نسل 2025ء کی اسمبلی میں بھی موجود ہے۔ یہ دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ گویا سندھ کے آ گے بڑھنے کا سفر ایک طرح سے تھم سا گیا ہے۔ ہم آ ج بھی اسی مقام پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں سے ہم چلے تھے۔ ایسے میں پھر بھلا فقیر مشتاق منگریو، ڈاکٹر اکرم شیخ اور غلام سرور سہاگ جیسے جیالے کارکنان اور عام افراد آ خر کس طرح سے ایوانوں میں پہنچ سکتے ہیں؟
1954ء میں ملک میں ون یونٹ لاگو کیا گیا تھا۔ جس کے لیے سندھ اسمبلی سے 11 دسمبر 1954ء کو ون یونٹ کے حق میں ایک قرارداد بھی پاس کروائی گئی تھی۔ اس اسمبلی میں دادو سے پیر الٰہی بخش بھی موجود تھے۔ جن کے پوتے پیر مظہر الحق 1988ء سے ایم پی اے بننا شروع ہوئے۔ اس وقت بھی پیر مظہر الحق کے بیٹے پیر مجیب رکن سندھ اسمبلی ہیں۔ جام بشیر احمد ڈہر بھی اس اسمبلی میں موجود تھے۔ اب جام مہتاب ڈہر اسمبلی میں براجمان ہیں۔ علی اصغر شاہ شیرازی کا نام سامنے آتے ہی یہ پتا چلتا ہے کہ اس وقت قومی اور سندھ اسمبلی میں موجود ٹھٹھہ کے شیرازی بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سردار علی گوہر مہر بھی 54ء کی اسمبلی میں موجود تھے۔ اس وقت بھی سردار علی گوہر مہر رکن سندھ اسمبلی ہیں، لیکن یہ 71 سال پہلے والے سردار علی گوہر مہر نہیں ہیں۔ کیوں کہ وہ ان کے چچا تھے۔ جب کہ ان کے کزن اور برادری کے چیف سردار کہلانے والے محمد بخش مہر اس وقت قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ جن کے والد سردار غلام محمد مہر تھے۔ ان کے سوا ایک اور ایم پی اے کی سیٹ راجا خان مہر اور ضلع گھوٹکی کی چیئر مین شپ محمد بخش مہر کے بھائی کے پاس ہے۔ ماضی کی ذکر کردہ اسمبلی میں امیر بخش مہر بھی تھے۔ جو یقینی طور پر ضلع شکار پور سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ جہاں پہلے تو تین دہائیوں تک سردار غوث بخش مہر نے سیاست کی اور اب انہوں نے اپنے بیٹوں شہر یار مہر اور عارف مہر کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب کروانے کے بعد خود اپنی بقیہ زندگی آرام کرنے کی ٹھان لی ہے۔ آغا بدر الدین درانی کا نام سنتے ہی شکارپور کی سیاست پر حاوی پٹھان خاندان کا نام سامنے آ تا ہے۔ جس کی نمائندگی اس وقت سندھ اسمبلی میں آغا سراج درانی کر رہے ہیں۔ اسی طرح سے مخدوم طالب المولیٰ، سردار سلطان احمد چانڈیو، سیف اللہ خان مگسی بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ مخدوم خاندان سے اس وقت مخدوم جمیل الزمان اور دیگر ایوانوں میں موجود ہیں۔ سلطان چانڈیو کے ورثاء میں سے سردار چانڈیو، جبکہ سردار سیف اللہ مگسی کے خاندان سے نادر مگسی اور عامر مگسی منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح سے سردار نور محمد خان بجارانی اور محمد بخش خان سرکی کے نام سنتے ہی کشمور کندھ کوٹ کے موجودہ اراکین ِ اسمبلی ذہن میں آ جاتے ہیں۔ مزاری خاندان بعد یہاں پر سیاست میں حاوی ہوا۔ اب یہ خاندان بھی اس وقت اپنی خاندانی سیاست کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہے۔
یہ وہ تلخ حقائق ہیں، جن پر اگر تفصیل کے ساتھ لکھا جائے تو ایک ضخیم کتاب بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ سندھ کی سیاست پر گزشتہ ایک طویل عرصے سے مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوش حال سندھ کے افراد روز بروز غریب سے غریب تر اور مخصوص خاندان امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ اس لیے اہل سندھ کو شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خاندانوں کی اجارہ داری سے اپنی جان چھڑوانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سیاست کرنے والی تمام تنظیموں اور وکلا، اساتذہ، شاگردوں، کسانوں سمیت سول سوسائٹی سمیت دیگر تمام شعبوں سے وابستہ افراد کو بھی اس حوالے سے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا بصورت دیگر مستقبل میں بھی یہی خاندان اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر تے، اقتدار کے مزے لوٹتے اور سندھ پر مسلط رہیں گے۔ (بشکریہ: روزنامہ ’’پنھنجی اخبار‘‘ کراچی 24 جون 2025ء)
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی اسمبلی میں سندھ کے رہے ہیں بھی اس
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :