امریکی ریاست ٹیکساس میں سیلاب، 27 لڑکیاں تاحال لاپتا، ہلاکتوں کی تعداد 51 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
ٹیکساس:
امریکا کی ریاست ٹیکساس میں آنے والے بدترین سیلاب سے ریاست کے وسطی علاقے بری طرح متاثر ہوگئے ہیں جہاں لاپتا ہونے والی 27 لڑکیوں کا سراغ تاحال نہیں لگایا جا سکا اور ہلاکتوں کی تعداد 51 ہوگئی۔
خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ٹیکساس کے وسطی علاقوں میں بدترین سیلاب سے تباہی ہوئی ہے جہاں ہفتے کو درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، کئی گاڑیں بہہ گئیں اور ہر طرف سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ملبہ بکھرا ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے لاپتا ہونے والے افراد میں 27 لڑکیاں بھی شامل ہیں جو اپنے روایتی سمر کیمپ میں نہیں پائی گئیں جہاں سیلاب نے کیمپ کی جگہ بھی تباہ کردی ہے۔
ٹیکساس کی کیر کاؤنٹی میں 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں 15 بچے شامل ہیں اور دیگر 8 افراد قریبی کاؤنٹیز میں سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔
ریاست کے حکام نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ کیر کاؤنٹی میں دریائے کے کنارے ہونے والے کرسچن سمر کیمپ میں کیمپ میسٹکس سے بچوں سمیت اتنے سارے لوگ کیسے لاپتا ہوگئے ہیں جبکہ مذکورہ جگہ سے ہلاک افراد کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ ٹیکساس میں دریائے گوالڈالوپ میں جمعے کو صرف 45 منٹ کے مختصر وقت میں تیز بہاؤ کے ساتھ پانی سطح 8 میٹر (26 فٹ) بلند ہوگئی ہے، جس نے گھروں اور گاڑیوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔
مزید بتایا گیا کہ بارش کا سلسلہ بھی طویل ہوتا گیا اور ہفتے کو مذکورہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی بڑی تعداد سین انٹونیو کے باہر پہنچ گئی جبکہ بارش اور سیلاب کے خطرات بدستور موجود ہیں۔
حکام نے بتایا کہ لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے، جس کے لیے ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ درختوں میں پھنسے ہوئے لوگوں اور سیلاب کی وجہ سے سڑکیں ختم ہونے کےباعث کیمپ میں محصور ہونے والے افراد کی مدد کی جاسکے۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے حکام پر زور دیا کہ کام میں تعطل نہیں ہونا چاہیے اور مزید علاقوں میں تلاش شروع کی جائے جہاں تک پانی پہنچا ہے اور اتوار کو متاثرین کے لیے یوم دعا منانے کا بھی اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوگئے ہیں ہونے والے سیلاب سے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
پشاور:خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث دیواریں اور چھتیں گرنے سے اب تک دو افراد جاں بحق اور 31 زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔
مزید پڑھیںپشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریائے کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔