data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکساس: امریکی ریاست ٹیکساس کے مرکزی علاقے میں اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اب تک 51 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں کم از کم 15 بچے بھی شامل ہیں، متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں جس میں ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں مقامی شہریوں، سیاحوں اور کیمپنگ کرنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح آنے والے طوفان میں تقریباً 15 انچ بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے 137 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع گواڈالوپ دریا کے اطراف کا علاقہ زیر آب آگیا، 850 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، جن میں بعض درختوں سے چمٹے ہوئے اپنی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

کیر وِل شہر کے مینیجر ڈالٹن رائس کے مطابق “کیمپ مسٹک” میں موجود 27 لڑکیاں لاپتہ ہیں، حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ رائس نے کہا کہ “ہم دو طرح سے دیکھ رہے ہیں، ایک تو وہ لاپتہ افراد جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے اور دوسرا وہ جن کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں۔

کیر کاؤنٹی کے جج روب کیلی نے کہا کہ “یہ ایک اچانک آنے والی آفت تھی، ہمیں معلوم ہے کہ یہاں دریا بلند ہوتے ہیں مگر کسی نے اتنی تیز اور خطرناک صورتحال کی پیشگوئی نہیں کی تھی، مقامی شیرف لیری لیتھا کے مطابق 8 افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔

واقعہ کے وقت آزادی  امریکا (Independence Day) کی چھٹیوں کے باعث علاقے میں بڑی تعداد میں سیاح اور خیمہ زن موجود تھے۔ ریاست کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دریا کے کنارے کتنے لوگ خیموں، ٹریلرز یا کرائے کے گھروں میں مقیم تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر آفت زدہ قرار دینے کی درخواست کی ہے تاکہ وفاقی امداد حاصل کی جا سکے، امریکی وزیر داخلہ کرسٹی نوم کے مطابق صدر ٹرمپ اس درخواست کو منظور کریں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹیکساس کے عوام کیلئے دعاگو ہیں اور “ہمارے بہادر ریسکیو اہلکار وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو وہ بہترین انداز میں کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ کیر کاؤنٹی کے لیے فوری خطرہ ٹل گیا ہے، وسیع تر علاقے میں سیلابی صورتحال کے خدشات بدستور موجود ہیں، اور فلڈ واچ شام 7 بجے تک جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ قومی موسمیاتی ادارہ (NOAA) اس وقت شدید عملے کی کمی کا شکار ہے، کیونکہ موجودہ حکومت نے محکمہ میں ہزاروں ملازمتیں ختم کر دی ہیں، جس سے پیشگی انتباہی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ NOAA کے سابق سربراہ رِک اسپنراڈ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پیشگی الرٹ ناکافی ثابت ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق نے کہا

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی