تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جگدیپ دھنکھر نے کہا کہ آج کے سیاسی مباحث کی شدت اور لہجہ ملک کے جمہوری اور سماجی تانے بانے کیلئے نقصان دہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سیاسی ماحول ہندوستانی جمہوریت اور سماجی صحت کے لئے سازگار نہیں ہے۔ جے پور کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں "راجستھان پرگتی شیل منچ" کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جگدیپ دھنکھر نے کہا کہ آج کے سیاسی مباحث کی شدت اور لہجہ ملک کے جمہوری اور سماجی تانے بانے کے لئے نقصان دہ ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ نہ وہ خود کسی کا دباؤ قبول کرتے ہیں اور نہ ہی کسی پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست کا ماحول اور شدت نہ تو ہماری جمہوریت کے لئے موزوں ہے اور نہ ہی ہماری قدیم تہذیبی اقدار کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی حریف دشمن نہیں ہیں، دشمن سرحدوں کے پار ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے اندر کوئی دشمن نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے قانون سازی کے حوالے سے بھی بات کی اور خبردار کیا کہ مقننہ کے اندر قانون سازوں کے طرز عمل سے عوام کی ناراضگی جمہوری اداروں پر اعتماد کو ختم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا تشویشناک ہے کہ جمہوریت کے مندروں میں کیا ہو رہا ہے، اگر ان اداروں کے تقدس سے سمجھوتہ کیا گیا تو لوگ متبادل تلاش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق قانون ساز عوامی گفتگو کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جگدیپ دھنکھر نے نوٹ کیا کہ آئینی حکام کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، خاص طور پر جب ریاستی اور مرکزی حکومتیں مختلف سیاسی اداروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا "ایسی ریاست میں گورنر ایک آسان پنچنگ بیگ بن جاتا ہے، یہاں تک کہ نائب صدر اور صدر کو بھی اس میں کھینچا جا رہا ہے، میری نظر میں یہ منصفانہ نہیں ہے"۔ وہیں صحتمند اپوزیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کا ایک اہم حصہ ہے نہ کہ مخالف۔ انہوں نے کھلے اظہار اور مکالمے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ اظہار جمہوریت کی روح ہے لیکن جب اظہار جابرانہ، عدم برداشت یا مخالف خیالات کو مسترد کرنے والا ہو جاتا ہے، تو یہ اپنا معنی کھو بیٹھتا ہے، تعمیری بحث ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جگدیپ دھنکھر نے انہوں نے کہا کہ کہا کہ آج ملک کے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری