آج کا سیاسی ماحول ہندوستانی جمہوریت کیلئے مناسب نہیں ہے، نائب صدر
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جگدیپ دھنکھر نے کہا کہ آج کے سیاسی مباحث کی شدت اور لہجہ ملک کے جمہوری اور سماجی تانے بانے کیلئے نقصان دہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سیاسی ماحول ہندوستانی جمہوریت اور سماجی صحت کے لئے سازگار نہیں ہے۔ جے پور کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں "راجستھان پرگتی شیل منچ" کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جگدیپ دھنکھر نے کہا کہ آج کے سیاسی مباحث کی شدت اور لہجہ ملک کے جمہوری اور سماجی تانے بانے کے لئے نقصان دہ ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ نہ وہ خود کسی کا دباؤ قبول کرتے ہیں اور نہ ہی کسی پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست کا ماحول اور شدت نہ تو ہماری جمہوریت کے لئے موزوں ہے اور نہ ہی ہماری قدیم تہذیبی اقدار کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی حریف دشمن نہیں ہیں، دشمن سرحدوں کے پار ہو سکتے ہیں لیکن ملک کے اندر کوئی دشمن نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے قانون سازی کے حوالے سے بھی بات کی اور خبردار کیا کہ مقننہ کے اندر قانون سازوں کے طرز عمل سے عوام کی ناراضگی جمہوری اداروں پر اعتماد کو ختم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا تشویشناک ہے کہ جمہوریت کے مندروں میں کیا ہو رہا ہے، اگر ان اداروں کے تقدس سے سمجھوتہ کیا گیا تو لوگ متبادل تلاش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق قانون ساز عوامی گفتگو کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جگدیپ دھنکھر نے نوٹ کیا کہ آئینی حکام کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، خاص طور پر جب ریاستی اور مرکزی حکومتیں مختلف سیاسی اداروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا "ایسی ریاست میں گورنر ایک آسان پنچنگ بیگ بن جاتا ہے، یہاں تک کہ نائب صدر اور صدر کو بھی اس میں کھینچا جا رہا ہے، میری نظر میں یہ منصفانہ نہیں ہے"۔ وہیں صحتمند اپوزیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کا ایک اہم حصہ ہے نہ کہ مخالف۔ انہوں نے کھلے اظہار اور مکالمے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ اظہار جمہوریت کی روح ہے لیکن جب اظہار جابرانہ، عدم برداشت یا مخالف خیالات کو مسترد کرنے والا ہو جاتا ہے، تو یہ اپنا معنی کھو بیٹھتا ہے، تعمیری بحث ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جگدیپ دھنکھر نے انہوں نے کہا کہ کہا کہ آج ملک کے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭