ایران نے ترقی یافتہ اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھ دی، حزب الله
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
اپنے ایک خطاب میں شیخ علی قماطی کا کہنا تھا کہ ہم لبنان کی خاطر یہ تلخ حالات سہہ رہے ہیں لیکن کچھ لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اشتعال انگیز حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" کی پولیٹیکل کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر "شیخ علی قماطی" نے کہا کہ آج ایمان و عقیدے پر مبنی طاقت سے لبریز خون نے تلوار فتح حاصل کی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بعلبک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ یکجہتی کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہر قسم کے بحران میں شہید "سید حسن نصر الله" کے کردار و استقامت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے رہبر معظم انقلاب "سید علی خامنہ ای" کی قیادت میں ترقی یافتہ اسلامی تہذیب کی ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے علم، ترقی اور آزادی کے ذریعے ظلم و استعمار کا مقابلہ کیا۔ ایران نے مایوسی پھیلانے والوں اور غداروں کے باوجود کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ڈونلڈ ٹرامپ" اور اس کے حواری حقائق کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کی بہادر قیادت کی توہین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم وہ ان کے مقام و مرتبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
شیخ علی قماطی نے لبنان میں بعض سیاسی پارٹیوں کے کردار پر تنقید کی۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی انتخابات میں مثبت طور پر حصہ لیا لیکن حکومت نے لبنانی عوام سے جھوٹے اور گمراہ کن وعدے کئے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ مقاومت کے ہتھیاروں پر بات کرنے کی بجائے ہمارے علاقوں پر حملے بند کئے جائیں اور قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ استقامتی محاذ، لبنان کی حفاظت کی اپنی ذمہ داری سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ہم لبنان کی خاطر یہ تلخ حالات سہہ رہے ہیں لیکن کچھ لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اشتعال انگیز حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ شہید سید حسن نصر اللہ نے بھی ملک کی خاطر اکثر ایسی حرکتیں برداشت کیں۔ بہرحال سب جان لیں کہ ہم اپنی زمین پر کسی قبضے کو قبول نہیں کریں گے، اپنی عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور استقامتی فرنٹ کو کمزور ہونے نہیں دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ لبنان کی ایران نے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔