امیر لوگوں کا گروپ ٹک ٹاک خرید رہا ہے، چینی صدر ڈیل کی منظوری دیں گے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ٹک ٹاک کا خریدارموجود ہے، امیر لوگوں کا گروپ ٹک ٹاک خریدنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ جو ڈیل تیار کررہے ہیں اس میں چین کی منظوری درکار ہوگی، یہ پیش گوئی ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ منظوری دے دیں گے۔ 2 ہفتوں میں بتاؤں گا کہ ٹک ٹاک خریدنے والے کون ہیں۔
انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران جوہری طاقت حاصل کرنے کے قریب تھا۔ ایران کو پتا بھی نہیں تھا کہ ہم کب اور کیسے حملہ کریں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی سائٹ پر موجود افراد نے صرف خود کو بچانے کی کوشش کی۔ ایرانی عوام ظالم رجیم سے نجات کیلئے لڑرہے ہیں۔ خامنہ ای انسانی حقوق سے زیادہ ایٹمی پروگرام کو ترجیح دیتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکی حملوں سے پہلے ایران نے یورینیم منتقل نہیں کیا تھا، آبدوزوں سے30 راکٹ فائر کئے گئے جو ٹارگٹ پر لگے۔
صدر ٹرمپ کا فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ ایران ایٹمی پروگرام کی جانب بڑھا تو،ان کا آخری اقدام ہوگا، ایران پرامن راستے پر چلے گا تو پابندیاں ہٹادیں گے۔
وہیں ٹیرف سے متعلق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف کے مقابلے ٹیرف سے ہی کر رہے ہیں، ٹیرف کے مقابلے میں کچھ نہ کریں تو ہماری صورتحال خطرناک ہوگی۔ ہم کچھ نہ کریں تو امریکا معصوم بھیڑ کی طرح ہوجائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی حکومت معیشت کیلئےبڑےاقدامات اٹھارہی ہے، امریکا کی دنیا میں عزت بحال ہوئی ہے، سب قدر کررہے ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی صدر تھا کہ ٹک ٹاک کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔