Express News:
2026-07-24@10:28:37 GMT

ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے بہادری سے جنگ لڑی۔ جنگ کے آخری دنوں میں اسرائیل کو ایران سے بہت مار پڑی۔ اس کے بیلسٹک میزائلوں نے کافی تباہی پھیلائی ۔اگلے ہفتے ایران سے مذاکرات اور معاہدہ ہو سکتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو تعمیر نو کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے ۔ چین چاہے تو ایران سے تیل خرید سکتا ہے ۔ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات پر میڈیا رپورٹ کو مسترد کردیا ۔انھوں نے کہا کہ FBIکے ساتھ مل کر انٹیلی جینس لیک کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔

CNN، نیویارک ٹائمز وغیرہ امریکی میڈیا ایک گند ہے جو امریکی فوج کی شاندار کامیابی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔یہ بُرے لوگ ہیں جو جھوٹ پھیلا رہے ہیں ۔ جب کہ امریکی میڈیا کے ایک حصے کا دعویٰ ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں ۔ امریکی انٹیلی جینس رپورٹ کے مطابق ایرانی ایٹمی پلانٹ تباہ نہیں ہوئے ۔ سیٹلائٹ تصاویر بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں ۔

مشہور امریکی نیوز چینل CNNاور نیویارک ٹائمز بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ مکمل تباہی نہیں ہوئی ۔ ذرایع کے مطابق امریکیوں نے تین ایٹمی تنصیبات پر حملے سے ایران کو پیشگی آگاہ کردیا تھا۔ ورنہ ان ایٹمی تنصیبات کی تباہی سے اتنی ایٹمی تابکاری پھیلتی کہ پورے مشرق وسطیٰ سے لے کر پاکستان برصغیر تک کا علاقہ شدید متاثر ہوتا، لاکھوں افراد ہولناک بیماریوں کا شکار ہوکر اذیت ناک موت سے دوچار ہوتے ۔ ویسے بھی ایران کا کہنا ہے کہ ہمیں واضح طور پر اندازہ ہی نہیں بلکہ یقین تھا کہ امریکا اوراسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات کو ہر صورت نشانہ بنائیں گے ۔ اس لیے افزودہ یورینیم کو حملے سے پہلے ہی دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا۔ کسی بھی ایرانی جوہر ی تنصیب سے تابکاری کا اخراج نہ ہونا ہی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔

ایران نے علامتی طور پر قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا لیکن اس کی پیشگی اطلاع امریکا کو دے دی ۔ جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ خطے میں دوسرے عرب ملکوں کے علاوہ امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ قطر میں ہے ۔ جہاں 10ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ تمام امریکی فوجی اڈے ایران پر حملے کے لیے قائم کیے گئے ہیں ۔ وکی لیکس کے مطابق صدرٹرمپ کا خلیجی ممالک کا حالیہ دورہ بظاہر جو بھی مقاصد لیے ہوئے تھا لیکن اصل مقصد تیل کی دولت سے مالامال ان ممالک کو براہ راست یہ حکم پہنچانا تھا کہ ایران اسرائیل جنگ کے تمام اخراجات یہ ملک اٹھائیں گے ۔ ایران پر حملے کا فیصلہ 10جو ن کو ہی ہو گیا تھا ۔ ٹرمپ نے پہلے دودن کا کہا پھر ایران کو دھوکا دینے کے لیے دو ہفتے کا کہا اور مذاکرات کی شکل میں دھوکا دہی کا آغاز کردیا گیا۔

ہر معاملے میں ٹوویک ٹرمپ کی پسندیدہ حکمت عملی یا چالبازی ہے ۔ جس کا مظاہرہ انھوں نے ایران پر حملے کے دوران کیا ۔ ٹرمپ کی اسی چالبازی کے پیش نظر ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل ہی تھے جنھوں نے اس ادارے پر دباؤ ڈال کر ایک جھوٹی رپورٹ جاری کروائی کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے جب کہ یہی ادارہ پہلے یہ بیان جاری کر چکا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ اس ادارے نے اپنی عالمی ساکھ سرعام نیلام کردی ہے ۔

صدر ٹرمپ نے اس سال 21جنوری کو حلف لیا اور جیسے ہی 5 مہینے پورے ہوئے انھوں نے 22جون کو ایران پر حملہ کر دیا ۔ اس طرح میری مسلسل چوتھی بار پیشنگوئی پوری ہوئی۔ اس طرح ایک مہینے 37دن میں 5ویں پیشنگوئی ایران اسرائیل جنگ بندی کی شکل میں پوری ہوئی۔

حالیہ ایران اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ خاص طورپر جولائی کے آخر تک کا وقت انتہائی نازک ہے ۔ اس کے بعد بھی صورت حال غیر یقینی ہی رہے گی۔

صدر ٹرمپ کا مستقبل کیا ہے اس کا پتہ ستمبر ، اکتوبرسے چلنا شروع ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ ایران ایران پر رہے ہیں پر حملے تھا کہ

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی