Express News:
2026-06-03@06:52:17 GMT

ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے بہادری سے جنگ لڑی۔ جنگ کے آخری دنوں میں اسرائیل کو ایران سے بہت مار پڑی۔ اس کے بیلسٹک میزائلوں نے کافی تباہی پھیلائی ۔اگلے ہفتے ایران سے مذاکرات اور معاہدہ ہو سکتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو تعمیر نو کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے ۔ چین چاہے تو ایران سے تیل خرید سکتا ہے ۔ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات پر میڈیا رپورٹ کو مسترد کردیا ۔انھوں نے کہا کہ FBIکے ساتھ مل کر انٹیلی جینس لیک کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔

CNN، نیویارک ٹائمز وغیرہ امریکی میڈیا ایک گند ہے جو امریکی فوج کی شاندار کامیابی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔یہ بُرے لوگ ہیں جو جھوٹ پھیلا رہے ہیں ۔ جب کہ امریکی میڈیا کے ایک حصے کا دعویٰ ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں ۔ امریکی انٹیلی جینس رپورٹ کے مطابق ایرانی ایٹمی پلانٹ تباہ نہیں ہوئے ۔ سیٹلائٹ تصاویر بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں ۔

مشہور امریکی نیوز چینل CNNاور نیویارک ٹائمز بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ مکمل تباہی نہیں ہوئی ۔ ذرایع کے مطابق امریکیوں نے تین ایٹمی تنصیبات پر حملے سے ایران کو پیشگی آگاہ کردیا تھا۔ ورنہ ان ایٹمی تنصیبات کی تباہی سے اتنی ایٹمی تابکاری پھیلتی کہ پورے مشرق وسطیٰ سے لے کر پاکستان برصغیر تک کا علاقہ شدید متاثر ہوتا، لاکھوں افراد ہولناک بیماریوں کا شکار ہوکر اذیت ناک موت سے دوچار ہوتے ۔ ویسے بھی ایران کا کہنا ہے کہ ہمیں واضح طور پر اندازہ ہی نہیں بلکہ یقین تھا کہ امریکا اوراسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات کو ہر صورت نشانہ بنائیں گے ۔ اس لیے افزودہ یورینیم کو حملے سے پہلے ہی دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا۔ کسی بھی ایرانی جوہر ی تنصیب سے تابکاری کا اخراج نہ ہونا ہی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔

ایران نے علامتی طور پر قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا لیکن اس کی پیشگی اطلاع امریکا کو دے دی ۔ جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ خطے میں دوسرے عرب ملکوں کے علاوہ امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ قطر میں ہے ۔ جہاں 10ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ تمام امریکی فوجی اڈے ایران پر حملے کے لیے قائم کیے گئے ہیں ۔ وکی لیکس کے مطابق صدرٹرمپ کا خلیجی ممالک کا حالیہ دورہ بظاہر جو بھی مقاصد لیے ہوئے تھا لیکن اصل مقصد تیل کی دولت سے مالامال ان ممالک کو براہ راست یہ حکم پہنچانا تھا کہ ایران اسرائیل جنگ کے تمام اخراجات یہ ملک اٹھائیں گے ۔ ایران پر حملے کا فیصلہ 10جو ن کو ہی ہو گیا تھا ۔ ٹرمپ نے پہلے دودن کا کہا پھر ایران کو دھوکا دینے کے لیے دو ہفتے کا کہا اور مذاکرات کی شکل میں دھوکا دہی کا آغاز کردیا گیا۔

ہر معاملے میں ٹوویک ٹرمپ کی پسندیدہ حکمت عملی یا چالبازی ہے ۔ جس کا مظاہرہ انھوں نے ایران پر حملے کے دوران کیا ۔ ٹرمپ کی اسی چالبازی کے پیش نظر ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل ہی تھے جنھوں نے اس ادارے پر دباؤ ڈال کر ایک جھوٹی رپورٹ جاری کروائی کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے جب کہ یہی ادارہ پہلے یہ بیان جاری کر چکا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ اس ادارے نے اپنی عالمی ساکھ سرعام نیلام کردی ہے ۔

صدر ٹرمپ نے اس سال 21جنوری کو حلف لیا اور جیسے ہی 5 مہینے پورے ہوئے انھوں نے 22جون کو ایران پر حملہ کر دیا ۔ اس طرح میری مسلسل چوتھی بار پیشنگوئی پوری ہوئی۔ اس طرح ایک مہینے 37دن میں 5ویں پیشنگوئی ایران اسرائیل جنگ بندی کی شکل میں پوری ہوئی۔

حالیہ ایران اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ خاص طورپر جولائی کے آخر تک کا وقت انتہائی نازک ہے ۔ اس کے بعد بھی صورت حال غیر یقینی ہی رہے گی۔

صدر ٹرمپ کا مستقبل کیا ہے اس کا پتہ ستمبر ، اکتوبرسے چلنا شروع ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ ایران ایران پر رہے ہیں پر حملے تھا کہ

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام