کچھ نئے ممالک اسرائیل سے تعلقات معمول میں لانے کے ابراہام معاہدے میں شامل ہوں گے، ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران پرامن رویہ اپنائے اور امریکا کے ساتھ تعاون کرے تو وہ اس پر عائد پابندیاں ہٹا سکتے ہیں۔
فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ پرامن ہو سکتے ہیں، اور اگر وہ ہمارے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں، تو وہ انہیں مزید نقصان نہیں پہنچائیں گے، پابندیوں میں نرمی ‘ایران پر بہت فرق ڈالے گی’۔
انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کے ان دعوؤں کی تردید کی جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے پہلے افزودہ یورینیم کو نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایرانی جوہری تنصیبات مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہا، مہینوں میں دوبارہ سرگرمی شروع ہوسکتی ہے، سربراہ آئی اے ای اے
صدر نے کہا کہ امریکا نے حملوں کا پیشگی عندیہ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے جوہری مواد کو ہٹانا مشکل اور خطرناک تھا۔ انہوں نے نہیں سمجھا کہ ہم نے جو کیا وہ حقیقت میں ممکن ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار زور دیا کہ امریکا کے حالیہ حملوں کے بعد ایران جوہری منصوبہ جاری نہیں رکھ سکے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ممالک عرب خطے اور اسرائیل سے متعلق ابراہم معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں تاہم انہوں نے کسی مخصوص ملک کا ذکر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ کہ ہمارے پاس ابھی بہت اچھے ممالک ہیں، اور میرا خیال ہے کہ ہم انہیں شامل کرنا شروع کریں گے، کیونکہ ایران سب سے بڑا مسئلہ تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابراہم معاہدہ امریکا ایران.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابراہم معاہدہ امریکا ایران نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔