سعودی ولی عہد ٹرمپ سے ملنے امریکا پہنچ گئے؛ لڑاکا طیاروں نے سلامی دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
امریکی صدر کی دعوت پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے جہاں صدر ٹرمپ نے اُن کا پُرتپاک استقبال کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا اور تعریفی کلمات کہے۔
محمد بن سلمان کی آمد پر امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے انھیں سلامی دی۔ صدر ٹرمپ نے کابینہ سے تعارف بھی کرایا۔
یاد رہے کہ پہلی بار 2018 میں سعودی ولی عہد نے امریکا کا دورہ کیا تھا اور اُس وقت بھی ملکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔
یہ دورہ ولی عہد محمد بن سلمان نے استنبول میں سعودی صحافی کے قتل سے پیدا ہونے پیچیدہ صورت حال اور کڑی تنقید کے دوران کیا گیا تھا۔
تاہم اب 40 سالہ محمد بن سلمان نے عالمی سطح پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو منوالیا ہے اور ایک ابھرتے ہوئے لیڈر کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں۔
چنانچہ امید ہے کہ اس بار سعودی ولی عہد امریکا کے ساتھ پہلے سے کئی بڑے دفاعی اور توانائی کے معاہدے طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں لڑاکا طیاروں کی خریداری، مشرق وسطی کی صورتحال اور بالخصوص اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث لائے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سعودی ولی عہد
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔