حافظ نعیم نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کو عدالتی تاریخ کا بدنما داغ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
لاہور:
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو افسوسناک قرار دے دیا۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافط نعیم الرحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر افسوس ہوا، یہ عدالتی تاریخ کا ایک اور بدنما داغ ہے، مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق تھا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے جعلی فیصلے کروا کر سیٹیں حاصل کرنے کو یہ لوگ کامیاب سیاست کہتے ہیں، لوگ ایسے سیاستدانوں کو کامیاب سمجھتے ہیں جو کسی اصول پر نہیں حصول پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اصولی سیاست کی بات کرنے والے سیٹیں وصول کرینگے یا نہیں یہ دیکھنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ الیکشن میں جماعت اسلامی کے پر حق ڈاکہ ڈالا گیا، کراچی کی مئیرشپ پر بھی ڈاکہ ڈالا گیا، قومی الیکشن میں بھی جماعت اسلامی کا حق مارا گیا، کوئی مثال نہیں ملتی کہ الیکشن کمیشن جسے جیتا ہوا قرار دے وہ اپنی سیٹ واپس کردے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ آج اپوزیشن سے بات کر لے تو یہ اس نظام کو قبول کرلیں گے، جب باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن ہوئی تھی سب جماعتیں ایک ہو جاتی ہیں، تنخواہیں بڑھانے کیلئے سب ایک ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں اللہ نے پاکستان کو سرخرو کیا، ٹرمپ کی چاپلوسی میں کشمیر کا سودا قوم قبول نہیں کرے گی، کشمیر کے مسئلہ کو حل کئیے بغیر کوئی ثالثی قبول نہیں، اس لیے کشمیر کا سودا نہیں کرسکتے کہ ٹرمپ ہماری معیشت اچھی کردے گا، وقار سے کھڑے ہوں تو ساری دنیا ساتھ چلے گی، ٹرمپ کے آگے گرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پونے دو سال میں بھرپور طاقت کے باوجود حماس کو ختم نہیں کیا جاسکا، جب بھارت اور اسرائیل کو مار پڑی تو ٹرمپ نے ثالثی کروادی، قوم کا سودا کیا گیا تو سیاسی مزاحمت کو جماعت اسلامی لیڈ کرے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔