پاک فوج کا حوالدار لالک جان شہید نشانِ حیدر کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، چیف آف نیول اسٹاف، چیف آف ایئر اسٹاف اور مسلح افواج پاکستان کی جانب سے حوالدار لالک جان شہید نشانِ حیدر کو کارگل جنگ کے دوران مادر وطن کے دفاع میں بے مثال جرأت، غیر متزلزل عزم اور عظیم قربانی پر دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لالک جان شہید نے آج ہی کے دن 1999 میں دشمن کے تابڑ توڑ حملے بہادری سے پسپا کیے۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود میدان جنگ سے نکلنے سے انکار کیا اور آخری دم تک دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
مسلح افواج اور پوری قوم ان کی قربانی کو عظیم احترام اور شکر گزاری کے ساتھ یاد کرتی ہے۔ شہید کی قربانی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اور موجودہ و آئندہ نسلوں کے لیے حوصلہ اور عزم کا استعارہ ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج اس عہد کی تجدید کرتی ہیں کہ شہداء پاکستان کے مقدس مشن مادر وطن کے دفاع کو جرأت، فرض شناسی اور عزت و وقار کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔