بلوچستان، بارش میں آسمانی بجلی، دیوار گرنے سے 2 نوجوان، 1 بچی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
بلوچستان کے اضلاع واشک، لورالائی اور موسیٰ خیل میں بارش کے دوران آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 2 نوجوان اور ایک بچی جاں بحق ہو گئی۔
آبی ریلوں سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے نے آج رات اور کل ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، صحبت پور میں طوفانی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں، طوفانی ہواؤں اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کئی علاقوں میں نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ضلع واشک میں فلیش فلڈ کے باعث رہائشی مکانات، چار دیواریوں اور زرعی زمینوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا عمل جاری ہے۔
ضلع لورالائی تیز طوفانی بارش سے دیوار گرنے سے ایک بچی علیزہ جاں بحق ہو گئی جبکہ متعدد سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔
ضلع سوراب میں موسلا دھار بارش کے ساتھ شدید طوفانی ہواؤں کی وجہ سے گھروں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا۔
ضلع موسیٰ خیل میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث 2 نوجوان عبدالحلیم اور جمال دین جاں بحق ہو گئے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہاں زیب خان نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، صحبت پور میں آج رات اور کل طوفافی بارش کا امکان ہے۔
بارشوں سے پیدا ہونے والی ممکنہ ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پی ڈی ایم اے تیار ہے، متعلقہ محکموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ا سمانی بجلی نقصان پہنچا پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔