ظہران ممدانی کی انتخابی مہم سے اٹھنے والے سوالات
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے سب سے بڑے شہر نیو یارک کے میئر کے انتخاب کے لیے ظہران ممدانی کی مہم کو خصوصاً پاکستان اور برصغیر کے لوگوں کو جو امریکا اور نیو یارک سے بہت مرعوب رہتے ہیں، غور سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ میئر کا الیکشن نومبر 2025 میں ہوگا۔ ظہران ممدانی ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی جیت چکے ہیں۔ بلاشبہ، وہ ایک باصلاحیت شخصیت ہیں اور خود کو مسلم ڈیموکریٹ سوشلسٹ (لیفٹ) کہتے ہیں۔ انہوں نے ایک انتہائی کامیاب انتخابی مہم چلائی ہے۔ دیگر سیاستدانوں کی طرح ان کا بھی ایک معاشی ایجنڈا ہے، لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ ان کا معاشی ایجنڈا دوسروں سے بہتر ہے اور اس کی پیشکش کا انداز اس سے بھی زیادہ پرکشش ہے۔ یہ ایجنڈا مزدوروں اور غریبوں کے لیے موافق ہے۔ وہ سستی گروسری، قابل ِ برداشت رہائش، علاج معالجے، اور سستے یا مفت ٹرانسپورٹ کی بات کرتے ہیں۔ ان کی مہم میں صرف ایک نظریاتی نکتہ نمایاں ہے، اور وہ ہے اسرائیل اور نیتن یاہو کے بارے میں ان کے سخت بیانات۔
نیو یارک شہر کی آبادی تقریباً 8.
نیو یارک کے اسکولوں میں منشیات کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے اور زنا بالجبر بہت کم عمری سے شروع ہو جاتا ہے۔ پرنسپل کی ٹیبل کی دراز میں طلبہ کے لیے کنڈوم رکھے جاتے ہیں۔ اسکولوں میں طرح طرح کے جنسی کھیل کھیلے جاتے ہیں، جن میں ہارنے والی لڑکی کو اپنا جسم ہارنا پڑتا ہے۔ نیو یارک اسٹیٹ چائلڈ ایبوز رپورٹنگ سسٹم کے مطابق 2021 میں 8 ہزار سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اسکولوں میں غنڈہ گردی، تشدد، اور لڑائی جھگڑے عام ہیں۔ بچوں کے گینگ ہوتے ہیں، جن کے سرغنہ ہوتے ہیں اور ان کی جیبوں میں پستول اور ریوالور ہوتے ہیں۔ 2022-23 میں نیو یارک کے اسکولوں میں تشدد کے 3,500 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 14 سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل تھے۔ امریکا میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار کم عمر لڑکیاں (19 سال سے کم) حاملہ ہوتی ہیں، جن میں سے کئی ہزار 15 سال سے کم عمر کی ہوتی ہیں۔ صرف نیو یارک شہر میں ہر سال 2 ہزار سے 3 ہزار نوعمر لڑکیاں حاملہ ہوتی ہیں، جو رضا مندی یا زنا بالجبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اب ہم جنسی کلچر بھی عام ہو چکا ہے، جو ڈیموکریٹک لبرل حکومتوں والے شہروں اور صوبوں میں زیادہ نمایاں ہے۔ اسکولوں، سڑکوں، پارکوں، اور دیگر عوامی مقامات پر دو لڑکوں یا مردوں، اور دو لڑکیوں یا عورتوں کا کھلے عام بوس و کنار کرنا اب ’’نیو نارمل‘‘ بن چکا ہے۔ لڑکوں کی پتلونیں پیچھے سے نیچے لٹکتی ہیں، جو ہم جنسی کلچر کا فیشن ہے۔ لڑکیاں ایسے کپڑے پہنتی ہیں کہ ان کے جسم کا ہر حصہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ امریکی خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ لوگوں میں تنہائی، شادی نہ کرنے اور زنا کے ذریعے دل بہلانے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ شادیاں ہوتی ہیں تو جلد ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہاں 50 فی صد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ سنگل ماں اور سنگل باپ والے گھرانوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ امریکا کی روحانی دنیا تاریک سے تاریک تر ہوتی جا رہی ہے۔
گزشتہ سال میں نے ٹورنٹو سے نیو یارک بس کے ذریعے سفر کیا۔ یہ سفر 11 سے 13 گھنٹوں کا ہوتا ہے۔ اب سرحد کے دونوں طرف تفریحی بھنگ (Marijuana) کو قانونی حیثیت حاصل ہے، جس کے باعث نشہ آور اشیا کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ بس کے سفر میں کم از کم ایک ایسا شخص ملا جو نشے کی حالت میں تھا، اسے اپنے جسم پر قابو نہیں تھا، اور اس سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ یہ میری برداشت سے باہر تھا اور اس کے بعد میں نے بس سے امریکا جانے سے توبہ کر لی۔ نیو یارک ڈاؤن ٹاؤن میں صبح سویرے پہنچا تو سڑک پر کئی مرد و خواتین زور زور سے لڑ رہے تھے۔ کم از کم ایک لڑائی جسم فروشی کی پوری قیمت نہ ملنے پر تھی۔ انگریزی کے ’’ایف‘‘ اور ’’ش‘‘ الفاظ کا خوب استعمال ہو رہا تھا۔ یہ منظر نیو یارک میں ہمیشہ دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن اب اس میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔
نیو یارک ایک گندا شہر ہے۔ یہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے اور سڑکوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر صفائی کا نظام ناقص ہے۔ سب وے کا سفر گندگی کی وجہ سے بہت مشکل ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مغرب اپنے تاریک دور میں، جو زیادہ پرانا نہیں، غلاظت کا ڈھیر تھا۔ فرانس میں جب مذہبی لوگ چلتے تھے تو ان کے گرد مکھیوں کے غول بھنبھناتے تھے۔ شاید اسی وجہ سے اعلیٰ جمالیاتی حس رکھنے والے مسلم فاتحین وہاں تک نہیں پہنچے۔ نیو یارک کی سب وے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ہوم لیس شخص اپنے کپڑوں میں غلاظت لے کر ڈبے میں داخل ہوتا ہے تو تمام مسافر وہ ڈبا چھوڑ کر نکل جاتے ہیں۔ لیکن اب لوگ اس کے عادی ہو چکے ہیں اور اپنی مدافعتی قوت بڑھا چکے ہیں۔
نیو یارک میں رہنے والوں کی اکثریت کم سے کم معاوضے والی نوکریاں کرتی ہے۔ انہیں ہفتہ وار تنخواہ ملتی ہے، جو جمعہ کی شام کو مل کر اتوار کے آخر میں خرچ ہو جاتی ہے۔ شراب، زنا، اور جوا ان کے پسندیدہ مشاغل ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ہفتہ بھر کا میٹرو کارڈ لے کر وہ پیر سے خالی جیب کے ساتھ دوبارہ نوکری شروع کرتے ہیں۔ نیو یارک کے معاشی مسائل ہیں، جیسے دنیا بھر کے ہیں، لیکن روحانی
مسائل اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ مسلمانوں کے پاس کتاب، ہدایت، اور ایک زبردست خاندانی نظام تھا۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، بیوی، بچے، خالہ، پھوپھی، ماموں، دادا، دادی، نانا، نانی، بھتیجے، بھانجے، اور ان تمام رشتوں میں سمایا ہوا ایک روحانی نظام تھا۔ ایک شاندار تعلیمی اور تربیتی نظام بھی موجود تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں نے امریکی قوم اور معاشرے کو کچھ نہیں دیا۔ بلکہ بہت سے مسلمان مغربی تہذیب کی غلاظت میں ڈوب کر اس پر فخر کرنے لگے ہیں۔
یہ تمام باتیں ظہران ممدانی کی انتخابی مہم سے براہ راست تعلق نہیں رکھتیں۔ بلکہ وہ ان برائیوں کو ’’حقوق‘‘ کے دائرے میں رکھ کر ان کا چمپئن بن جائیں گے۔ عام مسلمانوں کی بات چھوڑیں، وہ لوگ جو دعوت دین، تبلیغ دین، اقامت دین، شہادتِ حق، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے داعی تھے، اور نسلی قومیت کے بجائے خود کو ایک مشنری قوم کا فرد سمجھتے تھے، ان کا اسلام بھی نیو یارک میں ہر ہفتے کھانا تقسیم کرنے اور چند ریلیف کے کاموں تک محدود ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کا مشن انبیائی فرائض ادا کرتے ہوئے انسانوں کو انصاف اور حقوق دلانا تھا، لیکن ہم خود اپنے حقوق کی بھیک مانگنے لگے ہیں۔ آج کا مسلمان زیادہ سے زیادہ مسلم قوم پرست بن گیا ہے، جس کا کام صرف مسلم حقوق کی لڑائی لڑنا ہے۔ نتیجتاً، وہ عملاً اسلام کا دشمن اور اپنی قومی خواہشات و مفادات کا غلام بن چکا ہے۔ ظہران ممدانی اور دنیا بھر کے سیاستدان ترقی کو خدا بنا کر اور معاشی ایجنڈوں کو لے کر جتنی بھی جنگیں لڑ لیں وہ روحانیت اور معیشت دونوں کو تباہ کریں گے۔ ان سے اس دنیا کے انسانوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ امریکی انسان جہنم کی طرف دوڑ لگا رہا ہے اور ہمارے چہروں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ہمارے دل و دماغ میں کوئی طوفان یا آہٹ نہیں اٹھتی۔ یہ افسوس کی بات ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو یارک میں اسکولوں میں نیو یارک کے نیو یارک ا ہوتی ہیں ہوتا ہے گیا ہے کے ہیں چکا ہے کے لیے ہے اور اور اس
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔