مشال یوسفزئی نے علیمہ خان کے بیٹے پر طنزیہ سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات پھر نمایاں ہو گئے۔
پی ٹی آئی کور کمیٹی کی رکن مشال یوسفزئی نے علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ پر طنزیہ سوالات اٹھا دیے۔
مشال یوسفزئی نے شیر شاہ کی 9 اور 10 مئی کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ انہیں اتنی بڑا ریلیف کیسے مل گیا؟
یہ بھی پڑھیے پی ٹی آئی رہنما مذاکرات کیلئے تیار، رکاوٹ صرف عمران خان تحریک انصاف میں اختلافات شدید، جنید اکبر اور گنڈاپور آمنے سامنےمشال یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی کے اہم رہنما روپوش ہیں، کارکن جیلوں میں ہیں اور حسان نیازی کو اسی ویڈیو پر 10 سال قید کی سزا ہو چکی ہے لیکن کچھ افراد کو چھوٹ کیوں دی گئی؟
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں صوبائی صدر جنید اکبر خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے درمیان واضح تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔
جنید اکبر خان نے وزیراعلیٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد حکومت کے ترجمان اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر رونے دھونے کے بجائے گھر بیٹھ جائیں۔ پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دیں اور اہل شخص کو تحریک انصاف خیبر پختونخوا کا صدر بنایا جائے۔
بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ جنید اکبر خان وہ ذمہ داریاں پوری نہیں کر پا رہے جو انہیں بانی پی ٹی آئی نے سونپی تھیں، اسی لیے وہ پریشانی کا شکار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: یوسفزئی نے جنید اکبر
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔