نیویارک کے میئر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار ظہران ممدانی نہ صرف اپنی سیاست بلکہ اپنی محبت بھری زندگی کے باعث بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بھارتی نژاد فلم ساز میرا نائر اور ممتاز دانشور محمود ممدانی کے بیٹے ظہران ممدانی نے اپنی اہلیہ، راما دواجی سے ہِنج ایپ پر ملاقات کی تھی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق جب سے انہوں نے اپنی اہلیہ سے ملاقات کی کہانی سنائی ہے تو جین زی (90 کی دہائی کے وسط میں پیدا ہونے والی نسل) ان سے کافی متاثر ہے۔

’وہ ہماری زبان بولتے ہیں‘، ’انہوں نے ہِنج ایپ پر محبت پائی‘ یہ وہ آرا تھیں جو ان کی وائرل ویڈیو میں صارفین کی جانب سے پوسٹ کی گئیں تھیں۔

اس طرح کی باتیں نوجوانوں کے دلوں کو بھا گئی ہیں اور ظہران ممدانی کو ایسا رہنما تصور کیا جا رہا ہے جو آج کے دور کے مسائل کو نہایت سادہ انداز میں بیان کرتا ہے۔

حال ہی میں مشہور مزاح نگار کنیز سرکا کے ساتھ ایک نشست میں ظہران ممدانی نے محبت پر دلچسپ باتیں کی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’جب رشتہ ہی نہ ملے تو کم خرچ چائلڈ کیئر کا کیا فائدہ؟‘

تو ظہران نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ’میں نے اپنی بیوی سے ہِنج ایپ پر ملاقات کی، تو یہ ایپ اب بھی کارآمد ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ظہران کی اس محبت کی کہانی کو اس انداز میں سراہا جا رہا ہے کہ ”وہ ہماری زبان بولتے ہیں“ اور ”انہوں نے ہِنج ایپ پر محبت پائی“۔ ایسے پیغامات نے نوجوانوں کو متاثر کیا ہے اور ظہران کو ایک ایسا رہنما بنایا ہے جو آج کے دور کے مسائل کو آسان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

مزاح نگار کنیز سرکا کے ساتھ ایک حالیہ نشست میں ظہران نے کہا، ”میں نے اپنی بیوی سے ہِنج ایپ پر ملاقات کی، تو یہ ایپ اب بھی کارآمد ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”نیویارک کے باسی روزمرہ کے مہنگے خرچوں اور کرایوں کی فکر میں مبتلا ہیں، ایسے میں محبت تلاش کرنا مشکل ہے۔“

نیویارک کے میئر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار ظہران ممدانی نہ صرف اپنی سیاست بلکہ اپنی محبت بھری زندگی کے باعث بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بھارتی نژاد فلم ساز میرا نائر اور ممتاز دانشور محمود ممدانی کے بیٹے ظہران ممدانی نے اپنی اہلیہ، راما دواجی سے ہِنج ایپ پر ملاقات کی تھی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق جب سے انہوں نے اپنی اہلیہ سے ملاقات کی کہانی سنائی ہے تو جین زی (90 کی دہائی کے وسط میں پیدا ہونے والی نسل) ان سے کافی متاثر ہے۔

’وہ ہماری زبان بولتے ہیں‘، ’انہوں نے ہِنج ایپ پر محبت پائی‘ یہ وہ آرا تھیں جو ان کی وائرل ویڈیو میں صارفین کی جانب سے پوسٹ کی گئیں تھیں۔

اس طرح کی باتیں نوجوانوں کے دلوں کو بھا گئی ہیں اور ظہران ممدانی کو ایسا رہنما تصور کیا جا رہا ہے جو آج کے دور کے مسائل کو نہایت سادہ انداز میں بیان کرتا ہے۔

حال ہی میں مشہور مزاح نگار کنیز سرکا کے ساتھ ایک نشست میں ظہران ممدانی نے محبت پر دلچسپ باتیں کی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’جب رشتہ ہی نہ ملے تو کم خرچ چائلڈ کیئر کا کیا فائدہ؟‘

تو ظہران نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ’میں نے اپنی بیوی سے ہِنج ایپ پر ملاقات کی، تو یہ ایپ اب بھی کارآمد ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ظہران کی اس محبت کی کہانی کو اس انداز میں سراہا جا رہا ہے کہ ”وہ ہماری زبان بولتے ہیں“ اور ”انہوں نے ہِنج ایپ پر محبت پائی“۔ ایسے پیغامات نے نوجوانوں کو متاثر کیا ہے اور ظہران کو ایک ایسا رہنما بنایا ہے جو آج کے دور کے مسائل کو آسان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

مزاح نگار کنیز سرکا کے ساتھ ایک حالیہ نشست میں ظہران نے کہا، ”میں نے اپنی بیوی سے ہِنج ایپ پر ملاقات کی، تو یہ ایپ اب بھی کارآمد ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”نیویارک کے باسی روزمرہ کے مہنگے خرچوں اور کرایوں کی فکر میں مبتلا ہیں، ایسے میں محبت تلاش کرنا مشکل ہے۔“

ظہران نے محبت اور مہنگائی کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے کہا، ”مہنگائی کا تعلق محبت سے ہے۔“

یہ نظریات ظہران کی حالیہ فلم ’میٹیریلسٹک‘ کے کرداروں سے مختلف ہیں، جہاں محبت کے بجائے دولت کو ترجیح دی گئی ہے۔

ظہران کے مطابق محبت دولت کی محتاج نہیں بلکہ وقت، سکون اور سادگی سے پروان چڑھتی ہے۔

دسمبر 2024 میں ظہران اور راما نے دبئی میں برج خلیفہ کے قریب ایک نجی تقریب میں نکاح کیا، جس کے بعد نیویارک میں بھی سادہ تقریب منعقد کی گئی۔ ابتدا میں انہوں نے شادی کو نجی رکھا لیکن بعد میں اس کا اعلان کیا تاکہ مخالفین کی جھوٹی باتوں کا جواب دے سکیں۔

ظہران نے کہا کہ “راما صرف میری بیوی نہیں بلکہ ایک باصلاحیت فنکارہ ہیں جنہیں اپنی پہچان خود بنانے کا حق حاصل ہے۔

راما دواجی، جو 27 سالہ شامی نژاد فنکارہ ہیں، نیویارک کے بروکلین میں مقیم ہیں اور اپنے فن پاروں کے ذریعے فلسطین کی حمایت اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ”فنکار کا فرض ہے کہ وہ اپنے وقت کی عکاسی کرے، محبت بھی سیاست ہے اور سیاست میں بھی محبت ہے۔“

ظہران ممدانی کی محبت کی یہ کہانی نہ صرف جدید سیاست کو ایک نیا زاویہ دے رہی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر رہی ہے کہ دولت کے بغیر بھی ایک سچی اور خوبصورت محبت پروان چڑھ سکتی ہے۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ نیو یارک کے میئر کا عہدہ حاصل کر پائیں گے یا نہیں، لیکن ان کی محبت کی کہانی جین زی نسل کے لیے امید اور سادگی کا پیغام ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے ہ نج ایپ پر محبت پائی ہے جو آج کے دور کے مسائل کو نے اپنی اہلیہ محبت کی کہانی نیویارک کے ایسا رہنما اور ظہران جا رہا ہے کو ایک

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام