ٹرمپ گرفتاری، ملک بدر اور امریکی شہریت ختم کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں: ظہران ممدانی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک کے میئر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار ظہران ممدانی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں گرفتار کرنے، ملک بدر کرنے اور ان کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
اپنے بیان میں ظہران ممدانی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ان پر اس لیے حملہ آور ہیں تاکہ عوام کی توجہ اُن کے ان فیصلوں سے ہٹائی جا سکے، جو محنت کش متوسط طبقے کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں، بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
ظہران ممدانی نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ان پر صرف اس لیے سختی کر رہے ہیں کیونکہ وہ نیویارک میں مہنگائی سے پریشان شہریوں اور محنت کشوں کے حقوق کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم میں مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اس وعدے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ذاتی حملے کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر ظہران ممدانی نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو اپنی کارروائیوں سے روکا تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے ممدانی کے حامیوں کو بھی “پاگل” قرار دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔