سسٹم میں رہ کر نہیں توڑ کر پاکستان کو بچائیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئی بھی حکمران، حکومت پر براجمان سیاسی جماعت یا طاقت کے نشے میں چور کوئی بھی گروہ، جب بھی ایک مرتبہ ظلم و درندگی پر اُتر آتا ہے تو پھر اس کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی بقا کے لیے روز بروز اپنی فرعونیت میں اضافہ در اضافہ کرتا چلا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دلوں پر حکومت ہمیشہ وہ لوگ، جماعتیں، گروہ اور حکمران ہی کرتے ہیں جو اخلاق، کردار، عدل اور انصاف کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ، جماعتیں، گروہ اور حکمران ہوتے ہیں جو دنیا سے اٹھ بھی جائیں تو مرتے دم تک لوگ ان کو یاد کر کرکے روتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس جب کوئی حکمران ہی کیا، ایک عام فرد بھی ظلم و تشدد، وحشت و درندگی یا فرعونیت پر اتر آتا ہے تو پھر اس کے لیے لازم ہوتا چلا جاتا ہے کہ وہ اپنی وحشت و دہشت میں اضافہ در اضافہ کرتا چلا جائے۔
المیہ یہ ہے کہ وہ ظالم، فرعونیت کے کسی مقام پر ٹھیر بھی نہیں سکتا۔ جس مقام پر بھی وہ ٹھیرنے کی کوشش کرے گا یا یہ ارادہ کرے گا کہ وہ اس سے زیادہ ظلم نہ توڑے تو پھر وہ تمام لوگ جو اس کے ظلم و ستم سہتے رہے ہیں، اس کے خلاف متحد ہونا شروع ہوتے جائیں گے اور پھر ایک وقت وہ آئے گا کہ لوگ اس کو نشانِ عبرت بنا کر رکھ دیں گے۔
ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ روز بروز انحطاط کا شکار ہوتا جا رہے۔ گلی گلی چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں اضافہ در اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات بھی نہایت عام ہوتی جا رہی ہے کہ لوٹ مار کے موقع پر اگر کوئی مزاحمتی عمل سامنے آتا ہے تو جرائم پیشہ لوگ قتل کر دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ لوٹ مار، چھینا جھپٹی یا ڈاکا زنی ایک ایسی لعنت ہے جس سے باہر نکلنے والی ساری گلیاں اور راستے بند ہوتے ہیں۔ آغاز چھینا جھپٹی سے ہوتا ہے اور مزاحمت پر اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے کی جان تک لے لینے کی نوبت آجاتی ہے۔ ایک مرتبہ بھی کوئی بڑا جرم سرزد ہوجائے تو پھر جرم کرنے والے کی زندگی کا انحصار دوسرے کی جان لے لینے پر ہی رہ جاتا ہے۔ اگر مجرم کسی ایک مقام پر بھی اپنا ہاتھ روکنا چاہے تو پھر اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جرم سے ہاتھ روک لینے کا مطلب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ یا تو وہ قانون کے ہاتھوں مارا جائے یا پھر اس فرد یا افراد کے ہاتھوں مارا جائے جن کو وہ لوٹنے کے لیے آیا ہے۔ ایسے مجرم کے لیے ایک مصیبت یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر وہ ہر قسم کے جرم سے کنارہ کشی کرکے بیٹھ جائے تو اس کے گروہ کے ساتھی اسے اس لیے مار دیتے ہیں کہ کہیں وہ ان کی مخبری نہ کر دے۔ گویا جرم کے اس راستے کو اختیار کرنے والے کی زندگی نہ صرف جرم سے مسلسل وابستگی ہی میں پوشیدہ ہوتی ہے بلکہ اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ اسی جرم میں مزید پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا جائے۔ یہی حال فرعونیت پر اتر آنے والے حکمرانوں کا ہوتا ہے۔ جب کوئی بھی حاکم عدل و انصاف کے راستے کو چھوڑ کر ظلم و درندگی کی راہ اختیار کرتا ہے تو پھر وہ کسی بھی مقام پر ٹھیر ہی نہیں سکتا۔ اس کی حکمرانی کا دار و مدار روز روز نئے نئے کار ہائے فرعونیت ایجاد کرنے پر ہی ہوتا ہے۔
تاریخ میں کوئی بھی ایسا فرعون صفت حکمران یا طاقت کے نشے میں چور کوئی گروہ ایسا نہیں ملے گا جس نے اپنی فرعونیت کو کسی مقام پر روک لیا ہو کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ اس کا ٹھیر جانا خود اس کے اور اس کی بدمعاشی کے لیے موت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ موجودہ دور میں ملکوں کی سطح پر امریکا و اسرائیل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب ان کی بقا کا دار و مدار ان کی مسلسل درندگی ہی میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کی صورت حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ یہاں حکمرانی میں تشدد کا آغاز 1958 سے شروع ہوا۔ 1971 میں یہ اپنے ایسے عروج پر پہنچا کہ آدھا ملک اپنے ہاتھوں برباد کرنا پڑ گیا۔ شاید عبرت حاصل کرنے سے باقی ماندہ پاکستان عدل و انصاف اور جمہوریت کا گہوارہ بن جاتا لیکن یہ کسی طور بھی ممکن نہیں کہ ظلم و نا انصافیاں اپنے رویے میں تبدیلیاں لا سکیں لہٰذا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا ہے اور اب آہستہ آہستہ یہ عالم ہوتا جا رہا ہے کہ ایک کانسٹیبل کی سطح کا اہل کار بھی اپنی آپ کو سالار اعظم سمجھنے لگا ہے۔ بڑھتی ہوئی فرعونیت جب تک غرقاب دریا نہیں ہوجاتی یا نہیں کردی جاتی، اس وقت تک یہ عذابِ الٰہی کی صورت میں مسلط ہی رہتی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایسی فرعونیت خدا کا خوف دلانے سے ختم ہو جائے گی تو سیدنا موسیؑ تو اللہ کے نبی تھے، جب ان کے سمجھانے اور ڈرانے سے فرعون باز نہیں آیا تو ہمارے سجدہ ریز علما کے سمجھانے سے یہ سمجھ لینا کہ حالات بدل سکتے ہیں، دیوانے کی بڑ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
جب تک ہمارے سارے رہنمایانِ قوم یہ فیصلہ نہیں کر لیتے کہ ہر قسم کی فرعونیت کا خاتمہ کرنے کے لیے جب تک ہم وہی راستہ اختیار نہیں کریں گے جو رسول اللہ ؐ نے اختیار کیا تھا اس وقت تک تضیع اوقات کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ سسٹم میں رہتے ہوئے نہیں، سسٹم کو توڑ کر باہر نکلنے سے ہی کچھ ہوگا۔ انگریزوں اور ہندوؤں کے بنائے ہوئے سسٹم کو توڑا تھا تو پاکستان بنا تھا لہٰذا ظلم و درندگی کے بنائے گئے اس سسٹم کو توڑیں گے تو پاکستان بچ سکتا ہے ورنہ لگے رہو، ووٹ دیتے رہو، جلتے کڑھتے رہو، ریلیاں اور جلوس نکالتے رہو اور اخبارات، ریڈیو ٹی وی پر بیانات داغتے رہو اس سے کسی بھی فرعون کی صحت پر ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہے تو پھر کوئی بھی کے علاوہ ہے کہ وہ ہوتا ہے نہیں کر ا ہے تو ہیں کہ پھر اس کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جو دہشت گردوں کو وسائل فراہم کررہا ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بالکل ناکام ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،ہم نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں صرف عوام قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ اس میں ہماری لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز شامل ہیں، اس میں ہماری افواج پاکستان کے کڑیل جوان اور افسران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اب تک ہمارے 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اس جنگ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو انہیں وسائل بھی مہیا کررہا ہے اور اس میں دیگر فیکٹرز بھی ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بہادر بلوچوں اور پختونوں نے پاکستان کے قیام میں بڑا کردار ادا کیا، ترقی کے دوڑ میں جب تک چاروں صوبے مساویانہ طور پر شریک نہیں ہوں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا اور میں یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قبول کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی ترقی میں وفاقی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملے کی مذمت
دریں اثنا وزیرِاعظم نے کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے واقعے میں سب انسپکٹر سجاد الاسلام اور کسٹم کانسٹیبل جواد کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ اہلکاروں کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعہ سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، شرپسند عناصر کو کسی صورت ملک کا امن تباہ کرنے نہیں دیں گے۔