اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور قومی دفاع کے وزیر یاسر گلر نے ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ترک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اس سال کے دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ ہوئی اپنی مختلف ملاقاتوں بشمول 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے دوران حالیہ ملاقات، کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے پاک -ترکیہ تعلقات کو سٹرٹیجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیراعظم/ وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی مشترکہ صدارت میں مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے جس سے کثیر جہتی شعبوں میں تعاون کو تقویت ملے گی۔ اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے لیے اپنی مضبوط اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے، وزیر اعظم نے تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی ماحول بالخصوص غزہ اور ایران کے تناظر میں دونوں فریقوں کے درمیان قریبی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعہ کے دوران پاکستان کی مستقل حمایت پر ترک قوم اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے 5 بلین امریکی ڈالرز کے باہمی متفقہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کی دونوں ممالک کی جانب سے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ بڑھانے کی دعوت دی اور ترکیہ کو پاکستان کی ساختی اصلاحات اور اقتصادی ترقی میں اشتراک کی دعوت دی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری نے ملاقات کی اور پاور ڈویژن سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ارکان قومی اسمبلی محمد ادریس اور سردار غلام عباس نے الگ الگ ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں متعلقہ حلقوں کے امور پر گفتگو کی گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ زرعی اصلاحات پر عمل در آمد کا آغاز کسانوں کو آسان قرضوں کی سہولت سے کیا جائے گا۔ زرعی فنانسنگ کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی ترقی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو زرعی شعبے میں اصلاحات بالخصوص زرعی پیداوار میں اضافے، زرعی انفراسٹرکچر، کاروبار دوست ماحول کے لیے آسان اور پائیدار قواعد و ضوابط کے قیام اور کسانوں کی آسان زرعی قرضوں تک رسائی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ ایکشن پلان کسانوں کی آمدنی بڑھانے، پیداوار میں اضافے اور درست سمت میں اصلاحات پر مرکوز ہے۔ زرعی اجناس کے محفوظ ذخائر قائم کرنے کے لیے اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کسانوں کی آسان قرضوں تک رسائی کے منصوبے کا افتتاح جلد کیا جائے گا۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں زرعی قرضہ جات کا آسان اور شفاف نظام بنا کر کسانوں کی مالی امداد کی جا سکتی ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ زرعی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار کو موثر انداز میں بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کر کے برآمدات سے کسانوں کی آمدنی بڑھائی جائے گی اور قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکے گا۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بنک میں بھی ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی جائیں تاکہ کسانوں کو آسان قرضے کی فراہمی شفاف انداز میں یقینی بنائی جا سکے۔ شہباز شریف نے کہا کہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں زرعی پراجیکٹس کو مرکزیت حاصل ہوگی ، اور ترقیاتی منصوبے میکینائزیشن، ڈیجیٹائزیشن، کسانوں کی قرضوں تک آسان رسائی اور کاروبار دوست ماحول کے قیام پر مرکوز ہوں۔ زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات سے ملکی معیشت کو مزید فروغ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی اصلاحات کے شعبے میں زرعی اجناس کے علاوہ لائیو سٹاک سیکٹر کی اصلاحات پر بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ زرعی شعبے کی اصلاحات کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر بھرپور تعاون سے کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں اصلاحات سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ زرعی اجناس کی سٹوریج گنجائش بڑھانے کے حوالے سے طویل مدتی اور قلیل مدتی حکمت عملی کے لئے نئی تجاویز لائی جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں پائیدار اصلاحات کے لیے صوبوں کے ساتھ تعاون سے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ زراعت کے شعبے میں ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ کسانوں اور دیہی علاقوں کو ہو گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ شعبہ زراعت صرف تب عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ترقی کر سکتا ہے جب اس شعبے کے ماہرین زرعی پالیسیوں کی سمت کا تعین کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ پاکستان میں ایگریکلچرل زوننگ اور ویلیو چین کی حکمت عملی کے استعمال سے زرعی پیداوار کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹی ملکیتی زمینوں کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جائے۔ کسانوں کو نئی زرعی معلومات سے آگاہ کرنے کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا مربوط استعمال کیا جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، زرعی شعبے کے لیے وزیراعظم کے چیف کوآرڈینیٹر احمد عمیر، زرعی شعبے سے وابستہ نجی شعبے کے ماہرین اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور وزیر قومی دفاع یاسر گولر اسلام آباد پہنچے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح تزویراتی تعاون کونسل (HLSCC) اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے تحت اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ اسحاق ڈار نے ترک معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کے مابین گہرے برادرانہ تعلقات کو سراہا اور تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے گرمجوشی پر مبنی پیغام پہنچایا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ علاوہ ازیں  اسلام آباد میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات قائم ہیں، دونوں ممالک کئی علاقائی اور عالمی معاملات پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلے مضبوط تعلقات کا مظہر ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی وقت کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مشترکہ کمیٹیوں کے ذریعے تعاون موجود ہے۔ ترکیہ کے وزراء  خارجہ اور دفاع کی میزبانی کر کے خوشی ہوئی ہے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بات ہوئی، مختلف شعبوں میں ترکیہ کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں، پاکستان ترکیہ کو اپنا قابل اعتماد دوست اور برادر ملک سمجھتا ہے۔  ترکیہ کا ماورف سکول آزاد کشمیر میں کھولنے کی بات ہوئی، کراچی میں ترکیہ کے تاجروں کیلئے خصوصی اقتصادی زون بنانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ترک وزیر خارجہ باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ حکان فدان نے کہا کہ  جو کچھ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا اسے ہمارا مشترکہ اعلامیہ سمجھا جائے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان منفرد نوعیت کے تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات کو ادارہ جاتی شراکت داری میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں نے اقتصادی امور، ثقافت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا، دونوں ممالک باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان آئل اور گیس میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ قبرص کے معاملے پر پاکستان کی حمایت ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے ضبط وتحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا، اسرائیلی جارحیت نے پورے خطے کو خطرے میں ڈالا۔ ترک وزیر خارجہ نے ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔  پاکستان بھارت جنگ میں فضائیہ کی کارکردگی کو سراہا۔ ترک وزیر خارجہ نے دفاعی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دریں اثنا ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گلر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ ملاقات کے دوران ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین مشترکہ مقاصد اور تزویراتی ہم آہنگی پر روشنی ڈالی۔ دفاع، بالخصوص اعلیٰ تربیت اور ایرو سپیس ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاک فضائیہ کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔دونوں ممالک کے دفاعی سربراہان نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات میں تیزی سے پیش رفت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیاترک وزیر دفاع یاشار گلر نے پاکستان آمد پر پاک فضائیہ کی جانب سے دی گئی گرمجوشی اور مہمان نوازی پر دلی تشکر کا اظہار کیا، انہوں نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی اور قومی خودمختاری کے دفاع میں پختہ عزم کو سراہا اور اسے ایئر چیف کی مؤثر قیادت کا مظہر قرار دیا۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طویل المدتی برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا، انہوں نے خصوصی طور پر ایویانکس، جدید غیرروایتی جنگی ٹیکنالوجیز اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (UAS) کے شعبے میں مشترکہ منصوبہ جات اور صنعتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ترک وزیر دفاع نے پائلٹ ایکسچینج پروگرام میں پاک فضائیہ کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے اسے دونوں فضائی افواج کے مابین پیشہ ورانہ ترقی اور آپریشنل ہم آہنگی کے فروغ کا کلیدی ذریعہ قرار دیا،  فضائی مشقوں کے دائرہ کار کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان عزم کا اعادہ کیا برادرانہ تعلقات دونوں ممالک کے کرتے ہوئے وزیر تعاون کو مزید کا اظہار کیا میں تعاون کو سرمایہ کاری کے شعبے میں کسانوں کی ا اسلام ا باد وفاقی وزیر پاک فضائیہ شہباز شریف پاکستان کی پر زور دیا اسحاق ڈار وزیر دفاع فضائیہ کی پاکستان ا ملاقات کی بڑھانے کی تعلقات کو بڑھانے کے نے کہا کہ انہوں نے کے دوران کیا جائے کہ زرعی کرنے کے کی دعوت کے ساتھ کے لیے کیا جا نے پاک پر بھی

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف