بیرونی کمپنیوں کو کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ترجیح ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اماراتی کمپنی کے سی ای او نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں گزشتہ 19سال سے کامیاب سرمایہ کاری کر رہی ہے،فوٹو پی آئی ڈی
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بیرونی کمپنیوں کو کاروبار دوست ماحول اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم کرنا ترجیح ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ شریک تھیں۔
غیر ملکی کمپنیوں کو وزیراعظم نے پاکستانی معیشت کے مختلف سیکٹرز میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے سلسلے میں تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ یو اے ای اور پاکستان کے مشترکہ ثقافت، بھائی چارے اور مذہبی اقدار پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں، اماراتی کمپنیاں پاکستانی معیشت میں عرصہ دراز سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں، بیرونی کمپنیوں کو کاروبار دوست ماحول، سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم کرنا ترجیح ہے۔
اماراتی کمپنی کے سی ای او نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں گزشتہ 19 سال سے کامیاب سرمایہ کاری کر رہی ہے، پاکستان میں مزید کاروبار اور سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں، ہماری کمپنی میں 10 ہزار سے زائد پاکستانی قابل قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، پاکستان میں مستقبل کے لیے طویل مدتی اور کامیاب سرمایہ کاری کے لیے پر عزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کے پاکستان میں کمپنیوں کو کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔