بچی نے والد کو پہچاننے سے انکار کر دیا، عدالت نے ماں کی اپیل نمٹا دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد(محمد ابراہیم عباسی )اسلام آباد ہائیکورٹ میں باپ کی جانب سے بچی کو تسلیم نہ کرنے اور حق مہر کی واپسی سے متعلق عزہ مسرور کی فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی، جہاں عدالت کے حکم پر بچی کی والدہ نے بیٹی کو والد سے ملاقات کروائی، تاہم بچی نے اپنے والد کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ جسٹس کیانی نے بچی کو اپنے چیمبر میں بلا کر سوالات کیے، جس پر بچی نے واضح کیا کہ وہ صرف اپنے نانا اور مامو کو جانتی ہے کیونکہ والد نے کبھی اس سے ملنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
عدالت کے حکم پر بچی کے والد نے ڈیڑھ لاکھ روپے بچی کی والدہ کو ادا کر دیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچی نے والد کو پہچاننے سے انکار کر دیا ہے، والد کا بچی سے تعلق قائم کرنے کا کوئی عملی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ اگر کوئی ایگزیکیوشن کی درخواست دینا چاہتے ہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔ وکیل آصف تمبولی درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے عزہ مسرور نامی خاتون کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ، 30 قیدی پاکستان منتقل
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بچی نے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔