اسلام آباد(محمد ابراہیم عباسی )اسلام آباد ہائیکورٹ میں باپ کی جانب سے بچی کو تسلیم نہ کرنے اور حق مہر کی واپسی سے متعلق عزہ مسرور کی فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی، جہاں عدالت کے حکم پر بچی کی والدہ نے بیٹی کو والد سے ملاقات کروائی، تاہم بچی نے اپنے والد کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ جسٹس کیانی نے بچی کو اپنے چیمبر میں بلا کر سوالات کیے، جس پر بچی نے واضح کیا کہ وہ صرف اپنے نانا اور مامو کو جانتی ہے کیونکہ والد نے کبھی اس سے ملنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

عدالت کے حکم پر بچی کے والد نے ڈیڑھ لاکھ روپے بچی کی والدہ کو ادا کر دیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بچی نے والد کو پہچاننے سے انکار کر دیا ہے، والد کا بچی سے تعلق قائم کرنے کا کوئی عملی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ اگر کوئی ایگزیکیوشن کی درخواست دینا چاہتے ہیں تو متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔ وکیل آصف تمبولی درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے عزہ مسرور نامی خاتون کی درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ، 30 قیدی پاکستان منتقل

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بچی نے

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس