والد کے آخری لمحات کا وی لاگ بنانے پر تنقید، بیٹیوں نے اپنے دفاع میں کیا حیران کن وجہ بتائی؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
لاہور سے تعلق رکھنے والی دو خواتین وی لاگرز کو اپنے والد کے آخری ایام کی ویڈیو بنا کر یوٹیوب پر شیئر کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے اس اقدام کو غیر اخلاقی اور غیر حساس قرار دیا گیا جس کے بعد دونوں خواتین نے ایک وضاحتی ویڈیو جاری کرتے ہوئے اس متنازع اقدام کی وجہ بیان کی ہے۔
خواتین نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ان کے دونوں بھائی کام کرنے سے قاصر ہیں اور ان کا خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کے علاج اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے یوٹیوب پر انحصار کر رہی تھیں، اور ویڈیوز سے حاصل ہونے والی آمدنی ہی ان کے لیے واحد ذریعہ معاش تھی۔
View this post on Instagram
A post shared by laiba sid???????????? (@zaha_shah.
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یوٹیوب سے انہیں صرف چند ہزار روپے ہی موصول ہوئے اور ان پر لاکھوں یا کروڑوں کمانے کا الزام درست نہیں۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین ان کی اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آئے اور انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔
ایک صارف نے کہا کہ والد کے جنازے کا وی لاگ بنا کر کمائی کی جا رہی ہے جبکہ رمل خان نے ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی وضاحت نہیں ہے۔
اسوہ خان نے کہا کہ یہ بہنیں اب مظلومیت کارڈ کھیل رہی ہیں جبکہ ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ اگر آپ ایک دن وی لاگ نا بناتیں تو آپ کا کچھ نہیں بگڑنا تھا۔ جویریہ لکھتی ہیں کہ ہر چیز کی ایک حد اور اخلاقیات ہوتی ہے، والد کے آخری لمحات کی ویڈیو کو یوٹیوب پر ڈالنا نہ محنت ہے نہ مجبوری کا حل بلکہ یہ پیسے اور شہرت کی ہوس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا کی ہوس اور ڈالرز کا لالچ، بچوں نے باپ کے آخری لمحات کا وی لاگ بنادیا
واضح رہے کہ خواتین وی لاگرز کو اپنے والد کے آخری لمحات کے دوران وی لاگ بناتے اور غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ جب ایک بزرگ شخص موت کے قریب تھا اُس وقت اُس کی بیٹیاں نہ صرف کیمرے کے سامنے موجود تھیں بلکہ اپنے یوٹیوب چینل کو لائک اور سبسکرائب کرنے کی اپیل بھی کر رہی تھیں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ صارفین نے اس عمل کو ’غیر اخلاقی‘، ’غیر انسانی‘ اور ’سوشل میڈیا کی دوڑ میں اقدار کی پامالی‘ قرار دیا ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا تھا کہ انسانی جذبات، خاندانی رشتے اور دکھ جیسے نازک لمحات کا اس طرح استحصال افسوسناک ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹک ٹاکرز خواتین وی لاگزر والد کی وفات کا وی لاگ یو ٹیوبرز یوٹیوب کمائی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکرز یو ٹیوبرز یوٹیوب کمائی سوشل میڈیا کا وی لاگ والد کے کہا کہ
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔