پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی: انڈیکس نے نئی تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے نیا کاروباری ہفتہ ایک خوش کن اور پرجوش آغاز لے کر آیا۔ آج پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس نے اپنی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
اس غیر معمولی پیش رفت نے نہ صرف حصص بازار میں خوشی کی لہر دوڑا دی بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی ایک نئی توانائی فراہم کی۔
مارکیٹ کھلتے ہی ابتدائی لمحات میں ہی مثبت اشارے دیکھنے میں آئے اور سرمایہ کاری کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ پہلے ہی گھنٹے میں انڈیکس میں 1066 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے یہ سطح 133,015 پوائنٹس تک جا پہنچی۔ یہ ابتدائی تیزی اس بات کی علامت تھی کہ سرمایہ کار ایک مرتبہ پھر حصص مارکیٹ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔
جیسے جیسے کاروباری دن آگے بڑھا، مارکیٹ کی رفتار مزید تیز ہوتی گئی۔ وقفے وقفے سے مختلف سیکٹرز میں خریداری کا رجحان غالب آتا گیا، جس کے باعث انڈیکس میں 1128، 1308 اور آخر میں 1442 پوائنٹس تک کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا اور نتیجتاً کے ایس ای 100 انڈیکس 133,391 پوائنٹس کی نئی بلند سطح تک پہنچ گیا، جو اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں ایک ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔
اس زبردست تیزی کی بنیادی وجوہات میں کئی اہم عوامل شامل ہیں۔ ایک طرف سرمایہ کاروں کو ملک میں سیاسی استحکام اور مالیاتی پالیسیوں میں تسلسل کی امید ہے جب کہ دوسری جانب مالیاتی اداروں کی رپورٹیں بھی سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق حالیہ دنوں میں جس طرح غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار میں بہتری آئی ہے اور مقامی ادارے بھی ایک بار پھر مارکیٹ میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں، یہ سب مثبت رجحان کی علامات ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس اصلاحات کے اشارے بھی اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے کئی مواقع پر نئی بلندیوں کو چھوا تھا، جس نے موجودہ ہفتے کے آغاز کو مزید تقویت بخشی۔ سرمایہ کاروں کو اب توقع ہے کہ یہ تیزی عارضی نہیں بلکہ مسلسل بہتری کا آغاز ہے۔
اُدھر مختلف سیکٹرز بشمول بینکنگ، آئل اینڈ گیس، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی میں خاصی سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ ان شعبوں میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس نے مجموعی انڈیکس کو اوپر کی جانب دھکیلا۔
اگرچہ مارکیٹ کے ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مختصر مدت میں معمولی اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے، تاہم مجموعی رجحان کو ’بلش‘تصور کیا جا رہا ہے۔ اگر موجودہ اقتصادی پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام برقرار رہا، تو انڈیکس مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ کاروباری حلقے اس تیزی کو نہ صرف مارکیٹ کی بحالی بلکہ معیشت میں بہتری کی جانب ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں دیکھنے میں رہے ہیں
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔