بڑھتی ہوئی عمر پر تنقید؛ ماہرہ خان کو ماں نے کیا مشورہ دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی بڑھتی عمر پر ہونے والی تنقید اور اس پر والدہ کی پریشانی سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنایا ہے۔
ماہرہ خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایک فلم کی ریلیز کے دوران مجھے عمر پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اداکارہ نے بتایا کہ میری والدہ نے مجھے ایک کلپ دکھایا جس میں کوئی صاحب میری عمر پر تنقید کر رہے تھے۔
ماہرہ خان نے بتایا کہ میری والدہ نے مشورہ دیا کہ آخر تم اپنی عمر چھپا کیوں نہیں لیتیں؟ سب کو بتانے کی کیا ضرورت ہے۔
اداکارہ کے بقول جس پر انھوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں عمر کیوں چھپاؤں؟ میں جو ہوں، مجھے ایسا ہی قبول کیا جانا چاہیے۔
ماہرہ خان نے مزید کہا کہ میں نے ہمیشہ سچ بولا، اپنی شادی، ماں بننے، پھر طلاق، کچھ بھی نہیں چھپایا تو یہ عمر کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ عمر کے معاملے پر مجھ ہونے والی تنقید سے مجھے کوئی پریشانی ہوتی۔ میں سب کی رائے کو خوش آمدید کہتی ہوں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہرہ خان نے
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔