بڑھتی ہوئی عمر پر تنقید؛ ماہرہ خان کو ماں نے کیا مشورہ دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی بڑھتی عمر پر ہونے والی تنقید اور اس پر والدہ کی پریشانی سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنایا ہے۔
ماہرہ خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایک فلم کی ریلیز کے دوران مجھے عمر پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اداکارہ نے بتایا کہ میری والدہ نے مجھے ایک کلپ دکھایا جس میں کوئی صاحب میری عمر پر تنقید کر رہے تھے۔
ماہرہ خان نے بتایا کہ میری والدہ نے مشورہ دیا کہ آخر تم اپنی عمر چھپا کیوں نہیں لیتیں؟ سب کو بتانے کی کیا ضرورت ہے۔
اداکارہ کے بقول جس پر انھوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میں عمر کیوں چھپاؤں؟ میں جو ہوں، مجھے ایسا ہی قبول کیا جانا چاہیے۔
ماہرہ خان نے مزید کہا کہ میں نے ہمیشہ سچ بولا، اپنی شادی، ماں بننے، پھر طلاق، کچھ بھی نہیں چھپایا تو یہ عمر کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ عمر کے معاملے پر مجھ ہونے والی تنقید سے مجھے کوئی پریشانی ہوتی۔ میں سب کی رائے کو خوش آمدید کہتی ہوں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماہرہ خان نے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔