ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر: شام پر اقتصادی پابندیاں ختم، کیوبا پر دوبارہ لاگو
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر: شام پر اقتصادی پابندیاں ختم، کیوبا پر دوبارہ لاگو WhatsAppFacebookTwitter 0 1 July, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد اقتصادی پابندیاں باضابطہ ختم کرتے ہوئے صدارتی ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا، شام پر پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ہی کیوبا پر دوبارہ معاشی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق یہ ایگزیکٹو آرڈر 2004 کے اُس اعلان کو منسوخ کرتا ہے جس کے تحت شام کی حکومت کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے اور کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی بنیاد پر برآمدات پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
اس اقدام سے بیشتر مالی پابندیاں ختم ہو جائیں گی تاہم کچھ پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی، جن میں 2019 کے قیصر سیریئن سویلین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عائد کردہ پابندیاں شامل ہیں۔
ان پابندیوں کا مقصد شام میں تعمیر نو اور قدرتی گیس کی ترقی کے لیے مالی معاونت کو محدود رکھنا ہے جبکہ شام کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کا امریکی اعلان بھی برقرار رہے گا۔
مخصوص پابندیوں کی معطلی پر بھی غور کی ہدایت
نئے حکم نامے کے تحت وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قیصر ایکٹ کے تحت بعض پابندیوں کی معطلی پر غور کریں، مخصوص اشیاء کی برآمدات پر کنٹرول میں نرمی کی اجازت دیں، اور غیر ملکی امداد پر عائد بعض پابندیوں کو ختم کریں۔
اس کے علاوہ وزیر خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شامی رہنما احمد الشراع کی دہشت گرد فہرست میں شمولیت اور شام کی بطور دہشت گردی کی معاون ریاست حیثیت کا جائزہ لیں، اور اقوام متحدہ کے ذریعے پابندیوں میں نرمی کے ممکنہ اقدامات پر بھی غور کریں۔
شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تاریخی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت شام پر عائد زیادہ تر پابندیوں کے خاتمے سے اقتصادی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سے تعمیر نو، انفراسٹرکچر کی بحالی اور بے گھر شامیوں کی باعزت واپسی کے لیے ضروری حالات پیدا ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے بتایا کہ سابق شامی صدر بشارالاسد، داعش اور ایرانی اتحادیوں پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔
کیوبا کے لیے سخت پالیسی کا نفاذ
ٹرمپ نے صدارتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت کمیونسٹ نظام کے تحت چلنے والے ملک کیوبا کے خلاف ایک سخت امریکی پالیسی نافذ کی گئی ہے اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں کیے گئے اقدامات کو واپس لے لیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس نئی ہدایت میں امریکہ کے شہریوں کے لیے کیوبا کے سیاحتی دوروں پر قانونی پابندی کو نافذ کیا گیا ہے، جبکہ ملک پر اقتصادی پابندیاں برقرار رکھنے کی حمایت کی گئی ہے۔
اگرچہ امریکی شہریوں کے لیے تفریحی مقاصد کے تحت کیوبا جانا ممنوع ہے، لیکن تعلیمی یا انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے سفر کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کیوبا کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر بھی جزوی پابندیاں عائد کی ہیں۔
ٹرمپ کا عمل مجرمانہ ہے: کیوبا
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ آج امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا صدارتی میمورنڈم کیوبا کے خلاف جارحیت اور اقتصادی ناکہ بندی کو مزید مضبوط کرتا ہے، جو پوری کیوبن قوم کو سزا دیتا ہے اور ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ ایک مجرمانہ عمل ہے اور پوری قوم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہماری ترقی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ یہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے مالی سال میں حکومت ٹھوس معاشی اصلاحات کرے، صدر ایف پی سی سی آئی دریا میں پانی کا بہاؤ کتنا تھا اور الرٹ کب جاری کیا گیا؟ سوات واقعے پر محکمہ آبپاشی کی رپورٹ جاری غزہ: اسرائیلی بمباری میں فلسطینی فلمساز اور صحافی اسماعیل ابو حطاب شہید امریکا نے اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگانے والوں کو ویزا نہ دینے کا اعلان کر دیا نئے دور میں پارٹی کے خود انقلاب کے تقاضوں کو مزید عملی جامہ پہنایا جائے ، چینی صدر غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری جاری، مزید 88فلسطینی شہید واشنگٹن پوسٹ کا ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان نہ پہنچنے کا دعوی، وائٹ ہاوس کابھی ردعمل آ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اقتصادی پابندیاں ایگزیکٹو ا رڈر پابندیاں ختم ٹرمپ کا
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔