ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر: شام پر اقتصادی پابندیاں ختم، کیوبا پر دوبارہ لاگو WhatsAppFacebookTwitter 0 1 July, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد اقتصادی پابندیاں باضابطہ ختم کرتے ہوئے صدارتی ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا، شام پر پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ہی کیوبا پر دوبارہ معاشی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق یہ ایگزیکٹو آرڈر 2004 کے اُس اعلان کو منسوخ کرتا ہے جس کے تحت شام کی حکومت کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے اور کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی بنیاد پر برآمدات پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

اس اقدام سے بیشتر مالی پابندیاں ختم ہو جائیں گی تاہم کچھ پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی، جن میں 2019 کے قیصر سیریئن سویلین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عائد کردہ پابندیاں شامل ہیں۔

ان پابندیوں کا مقصد شام میں تعمیر نو اور قدرتی گیس کی ترقی کے لیے مالی معاونت کو محدود رکھنا ہے جبکہ شام کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کا امریکی اعلان بھی برقرار رہے گا۔

مخصوص پابندیوں کی معطلی پر بھی غور کی ہدایت

نئے حکم نامے کے تحت وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قیصر ایکٹ کے تحت بعض پابندیوں کی معطلی پر غور کریں، مخصوص اشیاء کی برآمدات پر کنٹرول میں نرمی کی اجازت دیں، اور غیر ملکی امداد پر عائد بعض پابندیوں کو ختم کریں۔

اس کے علاوہ وزیر خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شامی رہنما احمد الشراع کی دہشت گرد فہرست میں شمولیت اور شام کی بطور دہشت گردی کی معاون ریاست حیثیت کا جائزہ لیں، اور اقوام متحدہ کے ذریعے پابندیوں میں نرمی کے ممکنہ اقدامات پر بھی غور کریں۔

شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تاریخی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت شام پر عائد زیادہ تر پابندیوں کے خاتمے سے اقتصادی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سے تعمیر نو، انفراسٹرکچر کی بحالی اور بے گھر شامیوں کی باعزت واپسی کے لیے ضروری حالات پیدا ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے بتایا کہ سابق شامی صدر بشارالاسد، داعش اور ایرانی اتحادیوں پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔

کیوبا کے لیے سخت پالیسی کا نفاذ

ٹرمپ نے صدارتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت کمیونسٹ نظام کے تحت چلنے والے ملک کیوبا کے خلاف ایک سخت امریکی پالیسی نافذ کی گئی ہے اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں کیے گئے اقدامات کو واپس لے لیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس نئی ہدایت میں امریکہ کے شہریوں کے لیے کیوبا کے سیاحتی دوروں پر قانونی پابندی کو نافذ کیا گیا ہے، جبکہ ملک پر اقتصادی پابندیاں برقرار رکھنے کی حمایت کی گئی ہے۔

اگرچہ امریکی شہریوں کے لیے تفریحی مقاصد کے تحت کیوبا جانا ممنوع ہے، لیکن تعلیمی یا انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے لیے سفر کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کیوبا کے افراد کے امریکہ میں داخلے پر بھی جزوی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ٹرمپ کا عمل مجرمانہ ہے: کیوبا

کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ آج امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا صدارتی میمورنڈم کیوبا کے خلاف جارحیت اور اقتصادی ناکہ بندی کو مزید مضبوط کرتا ہے، جو پوری کیوبن قوم کو سزا دیتا ہے اور ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ ایک مجرمانہ عمل ہے اور پوری قوم کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہماری ترقی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ یہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے مالی سال میں حکومت ٹھوس معاشی اصلاحات کرے، صدر ایف پی سی سی آئی دریا میں پانی کا بہاؤ کتنا تھا اور الرٹ کب جاری کیا گیا؟ سوات واقعے پر محکمہ آبپاشی کی رپورٹ جاری غزہ: اسرائیلی بمباری میں فلسطینی فلمساز اور صحافی اسماعیل ابو حطاب شہید امریکا نے اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگانے والوں کو ویزا نہ دینے کا اعلان کر دیا نئے دور میں پارٹی کے خود انقلاب کے تقاضوں کو مزید عملی جامہ پہنایا جائے ، چینی صدر غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری جاری، مزید 88فلسطینی شہید واشنگٹن پوسٹ کا ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان نہ پہنچنے کا دعوی، وائٹ ہاوس کابھی ردعمل آ گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اقتصادی پابندیاں ایگزیکٹو ا رڈر پابندیاں ختم ٹرمپ کا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل