سی ٹی او لاہور کا کم عمر ڈرائیورز کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
باسم سلطان : چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور نے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کارروائی مزید تیز کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
سی ٹی او کا کہنا ہے کہ کم عمرڈرائیورزکیخلاف قانونی کارروائی میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے،خلاف ورزی کی صورت میں بچے کے والدین کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ کم عمر ڈرائیورز کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ یکم سے 30 جون تک کم عمر ڈرائیورز کے خلاف 33,277 چالان کیے جا چکےہیں جبکہ 251 مقدمات بھی درج کیے گئے۔
سکولوں کی انسپکشن کرنے والے افسران کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ
سی ٹی او کا ٹریفک وارڈنز کو ہدایت دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کم عمر ڈرائیورز کو سڑک پر دیکھتے ہی فوری کارروائی کی جائے اور سیف سٹی کیمروں کی مدد بھی حاصل کی جائے۔ سیف سٹی میں تعینات ٹریفک اسٹاف کو بھی فوری نشاندہی اور ایکشن لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔