امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ محصولات کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا تاہم اب بھی بے یقینی کی صورت حال برقرار ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 9 جولائی کو ختم ہونے والی 90 روزہ معطلی کے بعد نئی محصولات کے بارے میں تجارتی شراکت داروں کو خط بھیجنا شروع کردیں گے۔

صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے 12 یا 15 خطوط بھیج سکتے ہیں اور ساتھ ہی بعض معاملات میں معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ زیادہ تر ممالک  یا تو خط کے ذریعے یا کسی ڈیل کے ذریعے معاملات 9 جولائی تک طے کر لیں گے۔

تاہم جب صدر سے پوچھا گیا کہ آیا محصولات اس ہفتے ہی نافذ ہوں گی یا یکم اگست سے، تو انہوں نے اپنے بیان کو بار بار دہرایا اور واضح نہیں کیا۔

اس کے بعد امریکی کامرس سیکریٹری ہاورڈ لیٹنک نے مداخلت کی اور بتایا کہ نہیں محصولات یکم اگست سے نافذ ہوں گی، صدر ابھی شرحیں اور معاہدے طے کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اپریل میں صدر ٹرمپ نے عموماً 10 فیصد کی بنیادی شرح اور کچھ درآمدات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں محصولات کو بھی 9 جولائی تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب یکم اگست کی نئی تاریخ شراکت داروں کو مزید تین ہفتے کی نرمی دیتی ہے تاہم اس دوران درآمد کنندگان کو بھی مزید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ Truth Social پر بھی اعلان کیا کہ پیر دوپہر سے “TARIFF Letters یا Deals” بھیجنا شروع ہو جائیں گے۔

انھوں نے اپنی پوسٹ میں یہ نئی دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی ملک برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقا) کے ’’امریکا خالف‘‘ مؤقف کا حصہ بنتا ہے تو اس پر اضافی 10 فیصد محصول بھی عائد کیا جائے گا۔

 

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یکم اگست اگست سے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل