ٹرمپ کی برکس کو کھلی دھمکی: امریکا مخالف پالیسی پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگے گا
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس تنظیم کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ملک برکس کی امریکا مخالف پالیسی کا حصہ بنے گا، اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برکس نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے، اگرچہ تنظیم نے براہ راست دونوں ممالک کا نام نہیں لیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "کسی کو بھی اس پالیسی سے استثنا نہیں ملے گا، اور آج مختلف ممالک کو ٹیرف سے متعلق خطوط بھیج دیے گئے ہیں۔"
یاد رہے کہ برکس تنظیم نے گزشتہ روز ایک بیان میں خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر بیرونی حملوں کی مذمت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔