امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جو ممالک برکس کی امریکا مخالف پالیسیوں کی حمایت کریں گے، ان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف یعنی درآمدی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں کسی ملک کے لیے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

اتوار کی شام امریکا میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ جو بھی ملک برکس کی امریکا مخالف پالیسیوں کے ساتھ کھڑا ہوگا، اس پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لاگو ہوگا اور اس پالیسی میں کوئی استثنا نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:

https://truthsocial.

com/@realDonaldTrump/posts/114809574296066307

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برکس میں شامل ترقی پذیر ممالک برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ایک سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

برکس میں شامل ممالک میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور ایران شامل ہیں۔ یہ گروپ خود کو عالمی جنوب کے ممالک کے لیے ایک سیاسی و سفارتی رابطہ فورم قرار دیتا ہے جو مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:

چینی صدر شی جن پنگ نے اس اجلاس میں شرکت کے لیے اپنی جگہ وزیر اعظم لی کیانگ کو بھیجا، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آن لائن شرکت کی۔

اس کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکا پیر سے مختلف ممالک کو خطوط بھیجنا شروع کرے گا جن میں ہر ملک کے لیے مخصوص ٹیرف کی شرح اور تجارتی معاہدوں کی تفصیلات درج ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اضافی ٹیرف امریکی صدر برکس تجارتی معاہدوں ٹیرف کی شرح چین ڈونلڈ ٹرمپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اضافی ٹیرف امریکی صدر تجارتی معاہدوں ٹیرف کی شرح چین ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل