تھائی لینڈ: آئینی عدالت نے وزیراعظم کو معطل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بینکاک: تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے ملک کی خاتون وزیراعظم پیتونگاترن شیناوترا کو ایک حساس فون کال لیک ہونے کے تنازع کے بعد عبوری طور پر وزارت عظمیٰ کے منصب سے معطل کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق عدالتی فیصلے کا پس منظر اس وقت سامنے آیا جب 36 اراکینِ سینیٹ نے تھائی لینڈ کی وزیراعظم پیتونگاترن شیناوترا کے خلاف درخواست دائر کی، جس میں ان پر بدعنوانی اور آئین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عالمی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے اپنے ابتدائی حکم میں کہا ہے کہ معاملے کی مکمل سماعت اور حتمی فیصلے تک وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکیں گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گزشتہ ماہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحد پر سیکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی کے بعد وزیراعظم کی کمبوڈین ہم منصب سے ہونے والی فون گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ اس کال میں وزیراعظم کو تھائی افواج کے ایک سینیئر افسر پر تنقید کرتے سنا گیا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
فون کال منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیراعظم پیتونگاترن کو نہ صرف حزب اختلاف بلکہ حکومتی اتحادیوں کی طرف سے بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔
عدالت کے اس عبوری فیصلے کے بعد تھائی سیاست میں ایک نیا بحران جنم لے چکا ہے جب کہ حکومت کی آئندہ حکمت عملی اور وزیراعظم کے سیاسی مستقبل پر کئی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ کے بعد
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز