علی امین گنڈاپور کا سوات سانحہ کی متاثرہ ڈسکہ فیملی کیلئے بڑا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
پشاور :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے سانحہ سوات میں متاثر ہونے والی ڈسکہ فیملی کے لیے دو کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کردیا۔
میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ دریائے سوات میں ڈونے والی ڈسکہ فیملی کے لواحقین سرکاری نوکری کا تقاضہ کررہے ہیں، واضح کیا ہے کہ پنجاب کے ڈومیسائل کی بنیاد پر براہ راست صوبے میں سرکاری نوکری نہیں مل سکتی۔
انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی متاثرہ فیملی کے لواحقین کو 20 لاکھ فی کس کے حساب سے 2 کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، دو کروڑ کو کیسے کاروبار کے لیے استعمال کرنا ہے اس حوالے سے بھی مشورہ دیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ سوات اور صوبے کے دیگر سیاحتی مقامات پر تجاوزت کے خلاف آپریشن جاری ہے،سوات میں امیر مقام کے ہوٹل کا سروے جاری ہےتجاوزات اور دریا کےحدود میں آیا تو گرایا جائے گا، ہوٹل کا جو حصہ قانونی ہوگا اس کو نہیں چھیڑا جائے گا۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ افغانستان سے بہتر تعلقات سے ہماری تجارت کا حجم 100ارب ڈالر سے زائد ہوسکتا ہے، ابھی تک ہمارے پاس قانونی اور غیر قانونی افغان مہاجرین کا مصدقہ ڈیٹا موجود نہیں، غیر قانونی مہاجرین کی نشاندہی پر واپس بھیج کر قانونی دستاویزات بنانے کی ہدایت کی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے منسلک افغان بارڈر کو تجارت کے لیے کھولنا چاہیے، خیر سگالی کے طور پر افغانستان حکومت کو کینسر ہسپتال اور سولر ٹیوب ویل دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 27 جون کو دریائے سوات میں ڈسکہ کی ایک فیملی کے 10 افراد سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے تھے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی امین فیملی کے سوات میں
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔