data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پر مبنی پلیٹ فارم (SOCByte) نے ملک کا پہلا اے آئی سے لیس سائبر سیکیورٹی پروگرام متعارف کرا دیا۔

مذکورہ اے آئی سائبر سیکیورٹی پلیٹ فارم سیکیورٹی ماہرین کو اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ’ڈیکسٹر‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا مذکورہ پروگرام دراصل سیکیورٹی آپریشنز سینٹر (ایس او سی) اینالسٹ ہے جو انسانی ماہرین کے ساتھ مل کر سائبر سیکیورٹی میں درکار اہم ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ ایس او سی بائٹ اس وقت پاکستان میں پانچ مقامی کلائنٹس کے ساتھ ساتھ امریکا اور نائجیریا میں بھی اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔

ادارے کی پریس ریلیز کے مطابق سال 2023 اور 2024 کے درمیان پاکستان کو 3 کروڑ 40 لاکھ سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا جو ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کے بانی سلیمان آصف کے مطابق ان کا ادارہ ایسی ٹیکنالوجی تیار نہیں کر رہا جو ملک کے سائبر سیکیورٹی ماہرین کی جگہ لے بلکہ وہ ایسی ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں جو ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔

کمپنی کے مطابق مقامی سطح پر تیار کردہ ٹولز جیسے کہ ’ڈیکسٹر‘ پاکستان کے لیے کئی فوائد رکھتے ہیں جن میں ڈیجیٹل خودمختاری، مقامی خطرات سے متعلق انٹیلیجنس، تکنیکی کمیونٹی کی تشکیل اور ہائی ویلیو سیکٹرز میں مقامی جدت اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ یہ سنگ میل صرف تکنیکی ترقی نہیں بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ پاکستان اپنے طور پر جدید سائبر سیکیورٹی حل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو بڑھتے ہوئے عالمی سائبر خطرات کے تناظر میں اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سائبر سیکیورٹی کے مطابق اے ا ئی

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ