لاہور میں زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جولائی 2025ء ) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں زلزلے کے جھٹکت محسوس کیے گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے ۔ دو روز قبل صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید زلزلے کے باعث درجنوں مکانات تباہ ہوگئے اور شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونواح میں اتوار کی صبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد علاقوں میں املاک کو بھی نقصان پہنچا، ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.
(جاری ہے)
بتایا گیا کہ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد علاقہ مکین شدید خوف کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے اور کئی گھنٹے تک کھلے میدانوں میں مقیم رہے، ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں اور نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے، پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 21 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے، پانچ مکانات کو جزوی نقصان پہنچا، مکانات گرنے کے مختلف واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ معلوم ہوا تھا کہ بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کوہِ سلیمان کے دامن سے متصل علاقوں رکھنی، چھپر، مہمہ، صمند خان اور رڑکن میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، زلزلے کے بعد شہری اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور کھلے میدانوں میں پناہ لی، متعدد گھروں کی دیواریں اور کمروں کی چھتیں گرنے کے علاوہ کئی مقامات پر بجلی کے کھمبوں کو بھی نقصان پہنچا جس کے باعث بعض علاقوں میں وقتی طور پر بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، بعض دیہی علاقوں میں نقصانات کی نوعیت جاننے کے لیے سروے کا آغاز کر دیا گیا، حکام نے شہریوں کو ممکنہ آفٹر شاکس کے خطرے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خوف و ہراس پھیل گیا علاقوں میں زلزلے کے
پڑھیں:
لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
—فائل فوٹولاہور کے علاقے ڈیفنس میں گھر کے بیسمنٹ میں جمع ہونے والے بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں مون سون بارشوں کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 21 ہو گئی۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے میں مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی ہے جس کےمطابق رواں سال مون سون بارشوں سے اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موسمِ برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور خستہ حال مکانات میں رہائش نہ رکھیں۔