عدالت عظمیٰ نے وڈیو لنک کی سہولت میں دور دراز علاقوں تک توسیع دے دی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلا م آباد (صباح نیوز) انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے اور عوامی مرکزیت پر مبنی اصلاحات کو اپنانے کی اپنی مسلسل کوششوں کے تحت، عدالت عظمیٰ پاکستان نے وڈیو لنک سہولت کو ملک کے دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر وکلا اور سائلین کیلیے توسیع دے دی ہے۔ یہ سہولت سندھ ہائیکورٹ ڈویژن بینچ سکھر اور پشاور ہائیکورٹ کے 4 بینچوںایبٹ آباد، مینگورہ(سوات)، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کامیابی سے قائم کر دی گئی ہے، اس سہولت کودیگر صوبوں کے دور دراز علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی اور اس سلسلے میں اقدامات جاری ہیں۔ جاری پریس
ریلیز کے مطابق یہ اہم اقدام عدالت عظمیٰ کے ایک جامع اور جدید ٹیکنالوجی سے مربوط عدالتی نظام کے عزم کا مظہر ہے۔ یہ سہولت دور دراز علاقوں سے وکلا اور سائلین کو طویل سفر کی زحمت سے بچاتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں بذریعہ وڈیو لنک پیش ہونے کے مواقع فراہم کرتی ہے، جس سے وقت اور وسائل کی قابلِ قدر بچت ممکن ہوتی ہے۔ اس نظام کو مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے اور وکلا کو وڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کیلیے درخواست دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کے تحت عوامی مرکزیت کو فروغ دینے کیلیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو عدالتی نظام میں ضم کیا جا رہا ہے تاکہ یہ نظام زیادہ شفاف، فعال اور جوابدہ بنایا جاسکے۔ یہ سہولت عدالتی کارروائیوں کو جدید خطوط پر استوار کرتی ہے اور اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ جغرافیائی رکاوٹیں کسی شہری کیلیے انصاف تک رسائی میں حائل نہ ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دور دراز علاقوں عدالت عظمی وڈیو لنک
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔