مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینا سپریم کورٹ کے شاندار ترین فیصلوں میں سے تھا، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینا سپریم کورٹ کے شاندار ترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔
ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے شاندار ترین 2 فیصلوں میں سے ایک تھا۔
انہوں نے کہا کہ ویسے تو بہت سے فیصلے ہیں کہ ضیا الحق، یحییٰ خان اور مشرف کے جانے کے بعد جبر کے خلاف فیصلہ دیا، لیکن سپریم کورٹ کے 2ہی فیصلے ہیں جن میں جبر کے نظام کے دوران اس کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جبر کے نظام کے ہوتے ہوئے اُس کے خلاف فیصلہ صرف ایک جولائی 1988 میں آیا اور دوسرا فیصلہ 12 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ کے 8 اکثریتی ججز نے دیا۔ جب وقت کا حاکم یا نظام یہ چاہتا تھا کہ پی ٹی آئی کو سیٹیں نہ ملیں اور پی ٹی آئی کا پارلیمان میں تشخص مانا ہی نہ جائے۔ اس کے خلاف 8 ججز صاحبان کھڑے ہوئے اور آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دیا، جمہوریت اور ووٹ کے حق کا بول بالا کیا۔
قبل ازیں پی ٹی آئی رہنما اسدقیصر نے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قانون اور آئین نہیں ہیں۔ ملک کا نظام جنگل کا منظر پیش کررہاہے۔ جس کا جیسے دل چاہتا ہے ویسے ملک کا نظام چلا رہے ہیں۔ ملک میں فی الوقت قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا سپریم کورٹ کے پی ٹی آئی کو کے خلاف نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز