انجینئر امیر مقام کا سانحۂ سوات کے بعد عوامی املاک کو نشانہ بنانے پر شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اور صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا انجینئر امیر مقام نے سانحۂ سوات کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے عوام کی قانونی اور ملکیتی املاک کو نقصان پہنچانے پر شدید ردعمل دیا ہے۔
اپنے بیان میں امیر مقام نے کہا کہ سوات میں تجاوزات کے نام پر کی جانے والی کارروائی کے دوران لوگوں کی قانونی و جائز املاک کو نقصان پہنچانا قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے “سیاحت کی تباہی” کا بحران پیدا کر رہی ہے، جو کہ نہایت افسوسناک اور شرمناک عمل ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ ان کے قانونی اور ملکیتی ہوٹل کی باؤنڈری وال کو گرانا سیاسی انتقام اور اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہوٹل کی تمام قانونی دستاویزات، ملکیت، این او سی اور نقشہ متعلقہ حکام سے منظور شدہ ہیں اور وہ قانونی چارہ جوئی کریں گے۔
امیر مقام نے حاجی جلات خان سمیت تمام متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کی قانونی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ان کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہوئی ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔