سٹی42: دریائے سوات میں پانی کے ریلے میں پھنس کر  پنجاب کے  12 سیاحوں  کے مرنے پر تنقید کی زد میں آئی ہوئی علی امین حکومت آج تجاوزات ہٹانے میں اقربا پروری کے الزامات کی زد میں آ گئی۔ 

دو روز پہلے دریائے سوات میں پنجاب کے 12 سیاح ڈوب کر مر گئے تو خیبر پختونخوا کی علی امین گنداپور حکومت شدید عوامی تنقید کی زد میں، عوام نے ریسکیو نظام کی نااہلی اور دریا کے کناروں پر تجاوزات ہٹانے میں علی امین کی عدم دلچسپی کو حادثات کی بڑی وجہ قرار دیا۔ عوامی تنقید کے بعد علی امین گنڈاپور حکومت نے دریائے سوات کے کنارے "تجاوزات کے خلاف آپریشن" کیا اور اپنے حامیوں کی تجاوزات چھوڑ دیں جبکہ سابق وفاقی وزیر امیر مقام کے ہوٹل کی چار دیواری گرا دی۔

انارکلی : مکان کی چھت گر نے سےملبےتلےدب کر5افراد زخمی

سوات میں تجاوزات کے خلاف دوسرے روز بھی آپریشن جاری ہے،  فضاگٹ روڈ  پر دریائے سوات کے کنارے کئی دکانیں اور  چھپر ریسٹورنٹ گرا مسمار کر دئے گئے ۔ 

دریا کے کنارے  بنے تفریحی پارک کو بھی  انتظامیہ نے مسمار کر دیا۔ 

با اثر شخصیات کے ہوٹل کی باری آئی تو آپریشن بند ہو گیا

مقامی شہریوں  نے انکشاف کیا  کہ انتظامیہ تجاوزات آپریشن میں تفریق سے کام لے رہی ہیں، بااثر شخصیات کے ہوٹل اور اراضی تک پہنچتے ہی آپریشن بند کر دیا گیا۔ 

ایڈیشنل آئی جی مرزا فاران بیگ کا تبادلہ، نوٹیفکیشن جاری

  مقامی رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ نے تفریق سے کام لیا تو احتجاجی مظاہرے کریں گے ۔ 

 سابقہ گورنر غلام علی کی مبینہ جائیداد اور ٹاون میں کارروائی 

دریا کے  کنارے موجود ٹاون میں  کھدائی شروع کی گئی۔

انجنئیر امیر مقام کے ہوٹل میں بھی کارروائی کی گئی اور انجینئیر امیر مقام کے ہوٹل کی دیوار گرا دی گئی۔

  ہوٹل  کے منتظمین نے مزاحمت بھی کی۔ ان کے پاس تمام سرکاری کاغذات پورے تھے۔ اہوں نے اصرار کیا کہ اس ہوٹل میں کچھ بھی غیر قانونی تجاوزات کے زمرہ مین نہیں آتا۔

باٹا پور:خاتون اور اس کے بچوں کو ہراساں کرنیوالا ملزم گرفتار

  امیر مقام کے کزن نے کہا،   اپنی ناکامی چھپانے کے لئے انتظامیہ تجاوزات ہٹانے کے نام سے ہمارے خلاف یہ ڈرامہ رچا رہی ہے،

 امیر مقام کے کزن نے بتایا،  ہمارے پاس ہوٹل کے تمام کاغذات موجود ہیں۔ ہماری کوئی چیز غیر قانونی نہیںْ۔ پہلے سیاحوں کی جانیں بچانے میں شرم ناک نا اہلی سامنے آئی، اب تجاوزات کے خلاف آپریشن میں لوگوں کے کاروبار تباہ کردئے گئے،  امیر مقام کزن

فٹبالر لیونل میسی کی ٹیم فیفا کلب ورلڈ کپ سے باہر

آج کیا ہوا

دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر  امیر مقام کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔

سانحہ سوات کے بعد دریا کے کنارے تجاوزات کےخلاف آپریشن کا آج دوسرا دن تھا۔ 

علی امین حکومت کی انتظامیہ نے بتایا  کہ اب تک  26 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔

معروف بھارتی اداکارہ کی اچانک موت کی وجہ کیا بنی؟بڑا انکشاف

متاثرہ فیملی  (جس کے 12 افراد دریا مین پانی کا ریلا آنے کے دوران مدد نہ ملنے کی وجہ سے ڈوب گئے) ان لوگوں نے دریا کےکنارے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا تھا وہ  ہوٹل بھی گرادیا ہے۔

 تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر امیر مقام  کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔ ہوٹل ملازمین کی مداخلت کے باعث ہوٹل گرانے کا کام روک دیا گیا۔

 امیر مقام کا کہنا ہےکہ  ان کے پاس بلڈنگ کا این اوسی موجود ہے، ان کا ہوٹل تجاوزات میں نہیں آتا، صوبائی حکومت کی ایما پر میرے ہوٹل کی چار دیواری گرائی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہےکہ  تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مقصد سیاحوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔

سیاحوں کے مرنے کی وجہ کیا تھی

دریائے سوات سانحہ کے جو حقائق سامنے آئے ان کے مطابق  دریا کے کناروں پر پبلک کو خطرات سے آگاہ کرنے کا نظام موجود نہیں تھا۔ سوات دریا میں طغیانی / پانی کا ریلا آنے کی صورت میں قبل از وقت وارننگ دریا کے اوپر  کے علاقہ سے نیچے تک ہر جگہ جاتی ہے، سائرن بجانے کا نظام کاغذوں میں موجود ہے۔

ریسکیو1122 کے اہلکاروں کے کسی حادثہ کی سورت میں فوراً پہنچنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ درجنوں کالیں کرنے کے بعد جب ریسکیو کے اہلکار فضا گٹ کے سب سے برے  تفریحی مقام پر دریا میں پھنسے سیاحوں کی مدد کے لئے پہنچے تو ان کے پاس مدد کرنے کا کوئی سامان نہیں تھا، وہ بھی آ کر  سیاحوں کی موت کا تماشا دیکھنے والوں میں  شامل ہو گئے۔

انتظامیہ نے دفعہ 144 لگا کر دریا میں جانے سے روکنے کا حکم تو دیا لیکن دریا مین جانے والوں کو روکنے والا دریا کے کنارے ایک بھی اہلکار نہیں تھا۔ دریا کے کنارے کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ دریا میں جانا منع ہے۔

ڈی سی او کا عذرِ لنگ

آج ڈی سی او نے انکوائری کمیٹی کو اپنے بیان میں بتایا کہ آٹھ جگہوں پر سیاح دریا میں پانی کے ریلے میں پھنسے وئے تھ۔ دو جون کو دریا میں نہانے اور کشتی چلانے پر پابندی لگائی تھی۔، 23 جون کو دفعہ 144 لگا کر دریا میں نہانے کے لئے پابندی لگائی تھی۔

اس پابندی کی پابندی کروانا ڈی سی او کی ہی ذمہ داری تھی، اس پابندی پر ضلع بھر مین کہیں بھی عمل نہیں کیا جا رہا تھا اور ضلعی انتظامیہ خاموشی سے تماشا دیکھ رہی تھی۔ 

چیف سیکرٹری نے آج بتایا کہ ریسکیو 1122  کو اب ضروری سامان دینے کے لئے حکم جاری کر دیا ہے۔

علی امین گنڈاپور کے  ترجمان بیرسٹر سیف نے آج میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے اہلکار اس لئے تاخیر سے پہنچے کہ وہ دوسری جگہوں پر ریسکیو کی کارروائیوں مین مصروف تھے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے