data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جمعہ کے روز بھی برقرار رہا، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل پانچویں سیشن میں پرجوش سرمایہ کاری کے نتیجے میں انڈیکس نے 1 لاکھ 31 ہزار 949 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہو کر نئی تاریخ رقم کر دی۔

نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری، بجٹ میں درآمدی اشیا پر ٹیکس میں نرمی اور مستقبل قریب میں شرح سود میں کمی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نئی توانائی بخشی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کے مثبت رجحان کی بنیادی وجوہات میں حکومت کا مختلف ذرائع سے کثیرالجہتی اور تجارتی قرضوں کے حصول کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچانا، ایس آئی ایف سی کے تحت ریکوڈک، معدنیات، تیل و گیس کے منصوبوں میں متوقع غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی بہتری کے حوالے سے پیدا ہونے والا پرامید ماحول شامل ہیں۔

کاروبار کے دوران وقفے وقفے سے اتار چڑھاؤ کا رجحان جاری رہا، تاہم مجموعی طور پر رجحان مثبت رہا۔ دن کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1443 پوائنٹس کا بڑا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں انڈیکس نے 1 لاکھ 32 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عارضی طور پر عبور کر لیا،تاہم اختتامی لمحات میں دوبارہ پرافٹ ٹیکنگ کے باعث تیزی کی شدت میں معمولی کمی واقع ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر 1262.

41 پوائنٹس کے نمایاں اضافے کے ساتھ 131949.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح دیگر انڈیکسز میں بھی مثبت رجحان غالب رہا۔

اگرچہ مجموعی کاروباری حجم میں 18.53 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور مجموعی طور پر 73 کروڑ 30 لاکھ حصص کے سودے ہوئے، مگر قیمتوں میں اضافے کے اعتبار سے یہ دن سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش ثابت ہوا۔ 473 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 255 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 177 میں کمی اور 41 میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ دنوں میں اگر کرنسی مارکیٹ مستحکم رہی اور شرح سود میں کمی کی خبریں حقیقت میں بدل گئیں تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیاں عبور کر سکتی ہے، البتہ حکومت کو بجٹ اہداف پر عملدرآمد اور سیاسی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ یہ مثبت رجحان برقرار رہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر