مولانا فضل الرحمان کا تاجروں کے مطالبات کی حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک :جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متحدہ ایکشن کمیٹی سرکلر روڈ لاہور کے تاجروں کے وفد نے ملاقات کی جس میں تاجر برادری نے اپنے تحفظات اور حکومت کی معاشی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی۔
متحدہ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت ہم سے روزگار چھیننے جا رہی ہے اور شہر کی خوبصورتی کے نام پر لاکھوں افراد کو بے روزگار کیا جا رہا ہے ،ہم مولانا فضل الرحمان جیسے عوامی رہنما سے مکمل تعاون چاہتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ مظلوم طبقے کا ساتھ دیا۔
سکولوں کی انسپکشن کرنے والے افسران کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ
مولانا فضل الرحمان نے وفد کے مطالبات کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی تزئین و آرائش کے نام پر اگر بیروزگاری پیدا ہو تو یہ کسی صورت قبول نہیں، حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں نے مہنگائی بڑھا دی ہے اور غریب آدمی کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے،جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ میں ہر چیز کو مہنگا کر دیا گیا ہے اور حکومت کی پالیسیاں غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔جے یو آئی پوری قوت کے ساتھ تاجر برادری اور محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑی ہے۔
ریلوے ہیڈکوارٹر: افسران کے تقرر و تبادلے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔