data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے وہ تاریخ رقم ہو گئی جس کا خواب سرمایہ کار طویل عرصے سے دیکھ رہے تھے۔

ملکی معیشت میں بہتری کی خبروں، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافے، بجٹ کی منظوری اور عالمی سطح پر مثبت معاشی اشاریوں کے اثرات نے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو نئی بلندیوں کی جانب دھکیل دیا۔

ہفتہ وار کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس نے ایک نہیں بلکہ 7بڑی سطحیں عبور کیں، اور 131000 پوائنٹس سے بھی آگے نکل گیا، جو اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔

اس تاریخی تیزی کی بنیاد ان چند مضبوط معاشی عوامل نے فراہم کی جن میں سب سے اہم واجب الادا قرضوں کا رول اوور ہونا، آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر کا 14 ارب ڈالر سے بڑھ جانا اور تجارتی میدان میں امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدوں کی بازگشت شامل ہیں۔

اِن عناصر نے سرمایہ کاروں میں غیر معمولی اعتماد پیدا کیا، جس کا براہ راست اثر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے کاروبار پر دکھائی دیا۔ 5 روزہ کاروباری ہفتے کے ہر دن انڈیکس میں اضافے کا رجحان رہا اور کاروبار کا اختتام تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہوا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر 7570 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ 131949.

07 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس نے بھی 2472.03 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ دکھایا اور 40387.76 پوائنٹس پر آ کر رکا۔

دیگر انڈیکسز کی کارکردگی بھی غیر معمولی رہی۔ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس 4389.44 پوائنٹس بڑھ کر 82069.26 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس 6504.04 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 191376.82 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں بھی زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حصص کی قیمتوں میں اضافے کے سبب صرف ایک ہفتے میں 8 کھرب 47 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 159 کھرب 10 ارب 75 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔

سرمایہ کاروں کے لیے یہ ہفتہ منافع بخش ہی نہیں بلکہ تاریخ کا یادگار باب بن کر سامنے آیا، جہاں نہ صرف منافع میں اضافہ ہوا بلکہ مارکیٹ پر اعتماد بھی کئی گنا بڑھ گیا۔

اس غیر معمولی تیزی کی ایک اور بڑی وجہ سرکلر ڈیٹ میں کمی کے لیے حکومتی اقدامات کو بھی قرار دیا جا رہا ہے، جو توانائی کے شعبے میں بہتری کے اشارے فراہم کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نہ صرف خطے کی دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کر سکتی ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھے گی۔ موجودہ صورت حال میں مارکیٹ کی سمت مثبت ہے اور اگر معاشی پالیسیوں میں تسلسل جاری رہا تو آئندہ چند ہفتوں میں انڈیکس کی 135000 یا اس سے بھی بلند سطحیں ممکن ہو سکتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پوائنٹس پر مارکیٹ کی کے ایس ای

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم