پاک امارات ڈیجیٹل اصلاحات اور گورننس پر تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
—جنگ فوٹو
وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ڈیلیوری یونٹ کے سربراہ بلال اظہر کیانی نے اماراتی حکام کو پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے خصوصاً ڈیجیٹلائزیشن سے آگاہ کیا اور اماراتی حکومت کے ڈیجیٹائزیشن ماڈل سے سیکھنے اور تعاون کو بڑھانے کے عزم کو دہرایا۔
پاکستان کے اعلیٰ سطح کے سرکاری وفد نے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی زیر قیادت متحدہ عرب امارات کے زیر اہتمام ’ایکسپیریئنس ایکسچینج پروگرام‘ (EEP) میں شریک ہے۔
پاکستانی وفد نے متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے مالیاتی امور محمد بن ہادی الحسینی سے ملاقات کی اور پاکستانی اصلاحاتی مشن سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ای کامرس اور ڈیجیٹلائزیشن سے دیرپا معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔