وزیراعظم سے ترکیہ کے وزیرخارجہ و وزیردفاع کی ملاقات، ترک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
وزیراعظم سے ترکیہ کے وزیرخارجہ و وزیردفاع کی ملاقات، ترک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت WhatsAppFacebookTwitter 0 9 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان اور وزیر دفاع یاشار گلر نے ملاقات کی، جس میں 5 ارب ڈالر کے باہمی تجارت کے ہدف کے حصول کیلئے کوششوں پر زور دیا گیا۔
محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسلام آباد میں ملاقات کے دوران وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے ترک وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طویل المدتی برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
انہوں نے دو طرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔وزیر اعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ اپنے حالیہ روابط کو یاد کرتے ہوئے، جن میں 17ویں اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات بھی شامل ہے، پاک-ترکیہ تعلقات کو آنے والے دنوں میں اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے جوائنٹ کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا، جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحق ڈار اور وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کی، اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید رفتار پکڑیں گے، جس سے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے لیے مضبوط اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے تیزی سے بدلتے علاقائی و عالمی حالات، خاص طور پر غزہ اور ایران کی صورتحال کے تناظر میں دونوں فریقین کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے حالیہ بھارتی جارحیت کے دوران پاکستان کی بھرپور حمایت پر ترک قوم اور قیادت کا ایک بار پھر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھا کر باہمی طور پر طے شدہ 5 ارب امریکی ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کرنے کی دعوت دی اور ترکیہ کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کی ساختی اصلاحات، معاشی ترقی اور ترقیاتی کوششوں میں اپنی مہارت فراہم کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصارفین کیلئے خوش خبری، ملک بھر میں بجلی سستی کردی گئی صارفین کیلئے خوش خبری، ملک بھر میں بجلی سستی کردی گئی کے پی اسمبلی میں آزاد 35ارکان میں سے 20کو ایڈجسٹ کر لیا گیا ،علی امین گنڈاپور کی حکومت کا تختہ الٹنے کا امکان ختم پاکستان اور دبئی اسلامک بینک کے درمیان ایک ارب ڈالر فنانسنگ کا معاہدہ طے پا گیا روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ، 741میزائل داغ دیے حج 2026،رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں دو دن کی توسیع چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، باکو کے ہارٹیکلچر ماہرین کی شرکت ، شہر اقتدار کی خوبصورتی کے حوالے سے اقدامات پر...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ترکیہ کے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔